اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ مالیاتی پالیسی کو صرف بنیادی بجٹ توازن کے اہداف حاصل کرنے اور قرض کی پائیداری برقرار رکھنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے پالیسی پر اعتماد مضبوط کرنے، اقتصادی بحالی میں مدد دینے اور عوامی سرمایہ کاری و سماجی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا شعبے کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق گفتگو میں وسیع تر اور زیادہ قابل پیش گوئی ٹیکس نظام کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ دیرپا ترقی کے لیے مالی نظم و ضبط ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ایسا پالیسی فریم ورک بھی درکار ہے جو نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کو واضح سمت دے اور ریاست کو ترقیاتی ترجیحات پر خرچ کی مناسب گنجائش فراہم کرے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے مالی خسارے، بلند قرضوں، توانائی شعبے کی واجبات اور محدود ٹیکس بنیاد جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں میں محصولات بڑھانے، اخراجات کو قابو میں رکھنے اور سرکاری مالیات کو پائیدار بنانے پر مسلسل زور دیا گیا ہے۔ تازہ پیغام میں بنیادی مالی اہداف کے ساتھ پالیسی کے معیار، پیش گوئی کی صلاحیت اور طویل مدتی نمو کے تقاضوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

آزور کے مطابق ٹیکس نظام میں وسعت اور پیش گوئی کاروباری فیصلوں اور سرکاری آمدن دونوں کے لیے اہم ہے۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا بوجھ نسبتاً محدود دستاویزی شعبوں پر ہونے کی شکایات طویل عرصے سے سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ حکومت مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے وصولی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی سفارش کو کسی نئے ٹیکس یا شرح میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا؛ عملی اقدامات حکومت کی آئندہ پالیسی اور قانون سازی سے طے ہوں گے۔

فنڈ نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ مالی استحکام کا مقصد صرف عددی اہداف پورے کرنا نہیں بلکہ ایسے وسائل پیدا کرنا ہے جن سے انفراسٹرکچر، انسانی ترقی اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں مؤثر سرمایہ کاری کی جا سکے۔ پاکستان کے لیے یہ توازن اس لیے اہم ہے کہ مالی نظم و ضبط کے ساتھ معاشی سرگرمی اور روزگار کی بحالی بھی پالیسی سازوں کے سامنے بڑا چیلنج ہے۔

تازہ موقف پاکستان اور آئی ایم ایف کے جاری اقتصادی رابطوں کے وسیع تناظر میں سامنے آیا ہے۔ فنڈ کی سفارشات پالیسی سمت کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم کسی مخصوص مالی اقدام، بجٹ تبدیلی یا نئے محصول کے نفاذ کی حتمی تصدیق متعلقہ پاکستانی حکام کے باضابطہ فیصلوں سے ہی ہوگی۔