اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ عالمی معاشی منظرنامے کی رپورٹ میں پاکستان کے لیے مالی سال 2026-27 کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے مقرر کردہ چار فیصد ہدف سے کم ہے اور عالمی بینک کی گزشتہ ماہ پیش کی گئی 3.8 فیصد پیش گوئی سے بھی نیچے ہے۔ یہ اعدادوشمار مستقبل کے اندازے ہیں، حتمی معاشی نتائج نہیں۔

ڈان کی 13 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے رواں مالی سال میں پاکستان کی عمومی مہنگائی 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اس کی شرح 7.1 فیصد بتائی گئی۔ فنڈ کے تخمینے کے مطابق بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہوکر 6.5 فیصد رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس کمی کے لیے الگ تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی۔

آئی ایم ایف کے اندازے میں پاکستان کا جاری کھاتہ بھی توجہ کا مرکز ہے۔ ادارے نے گزشتہ مالی سال کے مجموعی قومی پیداوار کے 0.5 فیصد کے مساوی سرپلس کے مقابلے میں رواں سال ایک فیصد کے خسارے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں، درآمدی لاگت اور زرمبادلہ کی ضروریات پر دباؤ برقرار رہنے کا خطرہ ہے، تاہم اصل نتیجہ عالمی منڈیوں اور مقامی معاشی سرگرمیوں پر منحصر ہوگا۔

عالمی سطح پر فنڈ نے 2026 میں معاشی ترقی 3.1 فیصد اور 2027 میں 3.4 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری نے بعض معیشتوں کو سہارا دیا ہے، لیکن توانائی کی بلند قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی جنگ، تجارتی رکاوٹیں اور مالیاتی کمزوریاں متعدد ممالک کے لیے خطرات بڑھا رہی ہیں۔

پاکستان جیسی توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایسی معیشتیں، جو عالمی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے محدود فائدہ اٹھاتی ہیں، مہنگی درآمدات اور کمزور حقیقی آمدنی کے دباؤ کا زیادہ سامنا کرسکتی ہیں۔

فنڈ نے حکومتوں کو مالیاتی گنجائش بہتر بنانے اور مہنگائی سے متاثرہ کمزور طبقات کے لیے عارضی اور ہدفی معاونت کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان کے لیے نئی پیش گوئیاں معاشی پالیسی، قیمتوں کے استحکام اور بیرونی مالی ضروریات پر آئندہ فیصلوں کے تناظر میں اہم ہیں۔