اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے دستیاب مالی وسائل میں نمایاں اضافہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 2028 تک اس شعبے کی فنانسنگ کا حجم 11 کھرب روپے سے بڑھا کر 22 کھرب روپے کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف پیر 12 اکتوبر کو سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، یعنی سمیڈا، سے متعلق اجلاس میں پیش کیا گیا۔ حکومتی اعلان ایک آئندہ مدت کا ہدف ہے، اس رقم کے فوری اجرا کی تصدیق نہیں۔

ڈان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار معاشی سرگرمی اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کاروباری قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق عوام کو زیادہ مؤثر انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ نئے کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد بینکاری اور معاونتی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وزیراعظم نے سمیڈا سے کہا کہ مختلف شعبوں میں نئے کاروبار قائم کرنے کے لیے ماہرین کی مدد سے قابل عمل منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کی جائیں۔ ان رپورٹس کو مقامی زبانوں میں دستیاب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاکہ ایسے افراد کو سہولت مل سکے جو انگریزی میں کاروباری دستاویزات سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اجلاس میں کم ترقی یافتہ علاقوں میں معاشی مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سمیڈا کو کاروباری تربیت اور بینک فنانسنگ تک رسائی کے لیے مرکزی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اس کے دفاتر قائم کیے جارہے ہیں اور مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیلپ لائن بھی تیار کی جارہی ہے۔ یہ اقدامات پیش رفت کے مختلف مراحل میں ہیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر نافذ شدہ سہولتیں سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق عالمی ای کامرس ادارے علی بابا اور سمیڈا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت دو سال کے دوران دس ہزار چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ اجلاس میں سمیڈا کے ڈیجیٹل پورٹل کو زیادہ مؤثر اور استعمال میں آسان بنانے کے لیے جاری اصلاحات کا بھی ذکر کیا گیا۔

اسی روز ایک الگ اجلاس میں وزیراعظم نے اسلام آباد کے دانش آئی ٹی پارک کو جدید ٹیکنالوجی مرکز بنانے، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک بڑھانے اور منصوبے کا تیسرے فریق سے آڈٹ کرانے کی ہدایت دی۔ حکومت کے مطابق آئی ٹی شعبے میں تربیت، کاروباری آغاز اور برآمدات کے لیے معاون ماحول پیدا کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔ دونوں اجلاسوں میں سامنے آنے والے اہداف کی عملی کامیابی کا انحصار فنڈنگ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مقررہ مدت میں اقدامات کی تکمیل پر ہوگا۔