واشنگٹن: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، کے جاری کردہ نئے کثیر جہتی غربت اشاریے کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی صحت، تعلیم اور معیار زندگی سے متعلق متعدد محرومیوں کا بیک وقت سامنا کررہی ہے۔ پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار میں بھارت کے لیے یہ شرح 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش کے لیے 14.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم ان ملکوں کے اعداد مختلف برسوں میں کیے گئے گھریلو سروے پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی تاریخ کی براہ راست تقابلی تصویر سمجھنا درست نہیں۔
ڈان کی 13 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کثیر جہتی غربت کا شکار افراد کے درمیان محرومی کی شدت 51.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ مزید 12.9 فیصد آبادی کو کثیر جہتی غربت کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ یہ شرحیں صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی میں دشواریوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔
کثیر جہتی غربت اشاریہ روایتی آمدنی پر مبنی غربت کے تخمینوں سے مختلف ہے۔ اس میں غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم کے سال، اسکول میں حاضری، صفائی، پینے کے پانی، بجلی، رہائش اور گھریلو اثاثوں جیسے اشاریے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کسی گھرانے کو ایک ہی وقت میں کتنے مختلف شعبوں میں محرومی کا سامنا ہے۔
نئی عالمی رپورٹ میں مجموعی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق دنیا میں کثیر جہتی غربت سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پندرہ برس میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اس تعداد میں اضافہ ہے، اور گزشتہ جائزے کے مقابلے میں تقریباً پانچ کروڑ پندرہ لاکھ مزید افراد اس زمرے میں آئے ہیں۔
عالمی سطح پر متاثرہ افراد میں بچوں کی تعداد 61 کروڑ 70 لاکھ بتائی گئی ہے جبکہ 83 فیصد متاثرہ افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں تعلیم، غذائیت اور رہائش سے متعلق محرومیوں کا بوجھ خاصا نمایاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں ایسے غریب گھرانوں میں رہنے والے تقریباً پندرہ کروڑ افراد موجود ہیں جہاں اسکول جانے کی عمر کا کم از کم ایک بچہ تعلیم حاصل نہیں کررہا۔
جنوبی ایشیا کے لیے کثیر جہتی غربت کی مجموعی شرح تقریباً 19.3 فیصد اور اس کے خطرے سے دوچار آبادی کا تناسب 18.4 فیصد بتایا گیا ہے۔ یو این ڈی پی کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے عالمی غربت میں اضافے کو حکومتوں کے لیے خبردار کرنے والی صورتحال قرار دیا۔ رپورٹ کے اعداد سے پاکستان کے لیے تعلیم، بنیادی صحت، صاف پانی اور رہائشی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے، تاہم مختلف سروے برسوں کے فرق کو سامنے رکھے بغیر ملکوں کی کارکردگی پر قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

