اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے 93 پیسے کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 61 پیسے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق منگل 13 اکتوبر 2026 سے کیا گیا۔ اس تبدیلی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 395 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 85 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔
ڈان کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی وصولی جاری رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ قیمتوں میں تبدیلی محدود ہے، لیکن دونوں ایندھن کی قیمتیں سال کے آغاز کی نسبت اب بھی بلند سطح پر ہیں۔ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پس منظر میں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال تین اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس سے قبل 28 فروری کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی تھی۔ پیٹرول کی قیمت بھی اپریل کے آغاز میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچی، جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ تقریباً 266 روپے تھی۔ یہ ماضی کی قیمتوں کا تقابل ہے، نئی قیمتوں کا تخمینہ نہیں۔
حکومت نے ایندھن کی بلند قیمتوں اور ممکنہ رسد میں رکاوٹوں کے پیش نظر کفایت شعاری کے مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ڈان کے مطابق ان میں بازاروں کی رات نو بجے بندش اور سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کے مختص کوٹے میں نصف کمی شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایندھن کے استعمال کو محدود رکھنا بتایا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر میں موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ایک امدادی اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات سے کم آمدنی والے صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اسکیم کی عملی اہلیت اور فوائد متعلقہ سرکاری قواعد کے مطابق طے ہوتے ہیں۔
پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت ٹرانسپورٹ، مال برداری، بجلی کی بعض پیداواری سرگرمیوں اور بڑے جنریٹروں کے اخراجات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ حکومت نے جولائی میں عالمی منڈی کے تیز اتار چڑھاؤ کے پیش نظر ایندھن کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا نظام اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صارفین کے لیے آئندہ قیمتوں کی سمت عالمی منڈی، رسد اور حکومتی فیصلوں پر منحصر رہے گی۔

