اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے تازہ عالمی اقتصادی جائزے میں پاکستان کی رواں مالی سال کی معاشی ترقی 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ادارے کے مطابق صارفین کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تخمینے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر جاری ہونے والے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں پیش کیے گئے۔ انہیں حتمی نتائج کے بجائے معاشی امکانات کے تخمینوں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
آئی ایم ایف کی پیش گوئی حکومت پاکستان کے چار فیصد شرح نمو کے ہدف سے کم ہے۔ عالمی بینک نے گزشتہ ماہ 3.8 فیصد نمو کا اندازہ ظاہر کیا تھا، جبکہ آئی ایم ایف کا موجودہ تخمینہ اس سے بھی قدرے نیچے ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کی نمو 3.6 فیصد رہی تھی، اس لیے تازہ اندازہ معاشی سرگرمی میں معمولی سست روی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حکومت کے معاشی اہداف اور بین الاقوامی اداروں کے اندازوں میں یہ فرق پالیسی اور بجٹ کے جائزے میں اہمیت رکھتا ہے۔
فنڈ نے پاکستان کے جاری کھاتے کے بارے میں بھی محتاط اندازہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری کھاتے کا توازن، جو مالی سال 2025 میں مجموعی قومی پیداوار کے نصف فیصد کے مساوی سرپلس میں تھا، رواں سال ایک فیصد خسارے کی طرف جا سکتا ہے۔ اسی طرح مہنگائی کا تخمینہ گزشتہ سال کی 7.1 فیصد شرح کے مقابلے میں بڑھ کر 9.9 فیصد بتایا گیا ہے۔ تاہم بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہو کر 6.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اس ممکنہ کمی کی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
عالمی منظرنامے میں آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے عالمی نمو 3.1 فیصد اور 2027 کے لیے 3.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ادارے کے مطابق توانائی کی قیمتوں، تجارتی رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود عالمی معیشت نے بعض دباؤ برداشت کیے ہیں، لیکن خطرات برقرار ہیں۔ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگی درآمدات، شرح مبادلہ کے دباؤ اور محدود مالی گنجائش کا سامنا زیادہ ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے کمزور طبقوں کے تحفظ کے لیے ہدفی اور عارضی امداد پر زور دیا اور مالیاتی پالیسیوں میں ایسے انتظامات کی ضرورت بتائی جو غیر متوقع عالمی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائیں۔ دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس سے قبل رواں مالی سال چار فیصد سے زیادہ ترقی کی امید ظاہر کی تھی۔ مختلف تخمینوں کے درمیان فرق واضح کرتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں، بیرونی کھاتے اور داخلی پالیسی کے نتائج کو آنے والے مہینوں میں قریب سے دیکھنا ہوگا۔
