اردو ہیڈلائنز ڈیسک
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد کیے جانے کے بعد اسے واپس کیا گیا، تاہم بعد میں پاکستان تحریک انصاف نے اعتراض دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کردی۔ یہ پیش رفت منگل 25 اگست کو سامنے آئی۔
ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق درخواست عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ رجسٹرار آفس نے توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن فریقین کو توہین عدالت کے الزام کا سامنا ہے، ان کے ساتھ الزامات کی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ اسی اعتراض کے باعث ابتدائی طور پر درخواست کی فائل واپس کردی گئی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی اور انہیں درخواست پر اعتراض کے بارے میں بتایا گیا۔ ان کے مطابق پارٹی اعتراض دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کرے گی اور جلد سماعت کے لیے کارروائی مکمل کرنے کی استدعا بھی کی گئی۔
بعد ازاں ایکسپریس اردو نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پی ٹی آئی نے رجسٹرار آفس کا اعتراض دور کردیا اور توہین عدالت کی درخواست دوبارہ جمع کرا دی۔ رپورٹ کے مطابق اعتراض کا تعلق مبینہ طور پر توہین کے مرتکب افراد کے لیے الزامات کی فہرست فراہم نہ کیے جانے سے تھا۔
بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے کو بھی اٹھایا اور عدالتی حکم کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ یہ پی ٹی آئی رہنما کا مؤقف ہے اور اس خبر میں اسے اسی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے۔
ایکسپریس اردو کے مطابق عظمیٰ خان کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں عمران خان کو علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی ٹیسٹ کرانے کی استدعا بھی شامل تھی۔
یہ معاملہ فی الحال عدالتی درخواست اور اس پر رجسٹرار آفس کے انتظامی اعتراضات سے متعلق ہے۔ درخواست دوبارہ دائر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ توہین عدالت کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں یا عدالت نے فریقین کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ مزید عدالتی کارروائی اور سماعت کے تعین کے بعد ہی مقدمے کی آئندہ قانونی سمت واضح ہوگی۔
اردو ہیڈلائنز ڈیسک اس معاملے میں عدالتی کارروائی، درخواست گزاروں کے مؤقف اور متعلقہ حکام کے کسی باضابطہ ردعمل کو الگ الگ حیثیت میں رپورٹ کرے گا۔




