پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو ملک کے نظامِ حکمرانی اور وفاقی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا مینڈیٹ حاصل نہیں۔ ڈان کی 24 اگست کو رات 9 بج کر 36 منٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو سیاسی طور پر متنازع ’فارم 47 حکومت‘ قرار دیا اور کہا کہ پورے حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی کی بحث خطرناک ہوسکتی ہے۔ یہ الفاظ پی ٹی آئی رہنما کا سیاسی مؤقف اور الزام ہیں، کسی عدالتی فیصلے یا غیر جانب دار انتخابی نتیجے کی تعبیر نہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ حالیہ رابطوں کو اصولی بنیادوں پر ہونے والی مشاورت قرار دیا۔ ان کے مطابق ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین اور ادارہ جاتی نظام سے متعلق سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں اور جو جماعت ان معاملات پر پی ٹی آئی کے ساتھ اصولی اتفاق کرے وہ مشترکہ سیاسی جدوجہد میں شامل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کے اختلافات کے باوجود مخصوص نکات پر تعاون ممکن ہے اور ہر جماعت اپنے سفر کا دائرہ خود طے کرسکتی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت عدلیہ کی آزادی، نظام کو مضبوط بنانے اور آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان یا دوسرے علاقوں میں زور کے ذریعے حکمرانی کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کا خیرمقدم کرے گی۔ یہ اہداف پی ٹی آئی کی بیان کردہ سیاسی ترجیحات ہیں؛ رپورٹ میں کسی نئے تحریری اتحاد، مشترکہ منشور یا تمام اپوزیشن جماعتوں کی حتمی منظوری کی اطلاع نہیں دی گئی۔

27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے بارے میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی سیاسی جماعت کو شرکت سے نہیں روکے گی۔ ان کے مطابق کسی جماعت کی شمولیت کی خواہش سامنے آنے پر اس کے مقصد اور اہداف کا جائزہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی جیسے پارٹی فورمز میں لیا جائے گا۔ اس بیان سے لانگ مارچ کی دعوت اور مشروط تعاون کی پالیسی سامنے آتی ہے، مگر شریک جماعتوں کی حتمی فہرست یا عملی انتظامات ابھی طے شدہ نہیں بتائے گئے۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ گزشتہ ہفتے مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ’متحدہ اپوزیشن‘ بنانے اور مزید مشاورت جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات میں پارلیمانی قانون سازی کے معاملات پر رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ان رابطوں کے باوجود تمام جماعتوں کے درمیان مستقل سیاسی اتحاد کی مکمل شکل ابھی سامنے نہیں آئی۔

تازہ پیش رفت کا بنیادی نکتہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی مخالفت، اصولی سیاسی اشتراک کے لیے دروازہ کھلا رکھنے اور مجوزہ لانگ مارچ میں دوسری جماعتوں کی شرکت کا امکان ہے۔ حکومت کے مینڈیٹ اور آئینی صورت حال سے متعلق پی ٹی آئی کے دعووں کو اسی جماعت کے مؤقف کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ کسی آئینی ترمیم، نئے اتحاد یا مارچ کے حتمی انتظامات کی تصدیق باضابطہ فیصلوں کے بعد ہی ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک