نئی دہلی: بھارت میں صارف قیمتوں کی بنیاد پر سالانہ خوردہ مہنگائی اگست 2026 میں بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی، جو جولائی میں 4.45 فیصد تھی۔ پیر 14 ستمبر کو جاری سرکاری اعداد و شمار رائٹرز کے 4.80 فیصد کے سروے اندازے کے قریب رہے۔ یہ جنوری 2026 سے نافذ نئی صارف قیمت اشاریہ سیریز میں اب تک کی سب سے بلند سالانہ شرح ہے، تاہم یہ اب بھی ریزرو بینک آف انڈیا کے 2 سے 6 فیصد کے برداشت کے دائرے کے اندر ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں تیزی مہنگائی بڑھنے کی اہم وجوہ میں شامل رہی۔ ماہرین کے مطابق اگست میں خوراک کی سالانہ مہنگائی تقریباً 5.95 فیصد تک پہنچی، جو جولائی میں 5.52 فیصد تھی۔ سبزیوں، اناج اور دیگر روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں تبدیلیوں کا بھارتی صارف قیمت اشاریے پر بڑا اثر پڑتا ہے کیونکہ گھریلو اخراجات میں خوراک کا وزن نمایاں ہے۔ وسیع تر قیمتوں کے دباؤ میں اضافے نے بھی اس بات پر توجہ بڑھائی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کس رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔
تازہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارتی مرکزی بینک کو معاشی نمو اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ 4.82 فیصد کی شرح رسمی ہدفی دائرے میں ہے، اس لیے یہ خود بخود شرح سود میں اضافے کا فیصلہ نہیں بنتی۔ تاہم بعض ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی مستقبل میں سخت زری پالیسی کی دلیل مضبوط کر سکتی ہے، جبکہ دوسرے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مرکزی بینک کو مزید ماہانہ اعداد، خوراک کی قیمتوں، عالمی توانائی منڈی اور بنیادی مہنگائی کے رجحان کا انتظار کرنا چاہیے۔
نئی سی پی آئی سیریز کے نفاذ کا مقصد صارفین کے اخراجات کی بدلتی ساخت کو زیادہ درست انداز میں دکھانا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ادوار کے اعداد کا موازنہ کرتے وقت سیریز میں تبدیلی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگست کا 4.82 فیصد نتیجہ نئی سیریز کے اندر ایک واضح اضافہ ہے، لیکن یہ نہ تو ہدف سے باہر ہے اور نہ ہی کسی ہنگامی زری اقدام کا سرکاری اعلان۔
بھارت میں مہنگائی کا راستہ آئندہ مہینوں میں مون سون، فصلوں کی رسد، عالمی خام تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں، کرنسی کی قدر اور داخلی طلب جیسے عوامل سے متاثر ہوگا۔ خاص طور پر خوراک کی قیمتیں مختصر مدت میں مجموعی سی پی آئی کو تیزی سے اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہیں۔
14 ستمبر کی مصدقہ پیش رفت سرکاری اعداد میں اگست کی سالانہ خوردہ مہنگائی کا 4.82 فیصد تک بڑھنا ہے۔ ریزرو بینک کی آئندہ پالیسی کے بارے میں مارکیٹ یا ماہرین کی توقعات الگ معاملہ ہیں؛ مرکزی بینک نے اس اعداد کے اجرا کے ساتھ کسی نئی شرح سود تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔

