بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے انتخابی فہرستوں کی ملک گیر نظرثانی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ مظاہرے کی قیادت اپوزیشن جماعتوں نے کی اور شرکا نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ یہ تنازع گزشتہ ایک ماہ سے سیاسی کشیدگی اور مختلف شہروں میں احتجاج کا سبب بنا ہوا ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی اور وسیع نظرثانی کا مقصد ریکارڈ کو درست کرنا، وفات پا چکے افراد، دہری اندراجات اور غیر اہل ناموں کو فہرست سے نکالنا اور انتخابی نظام کی صحت بہتر بنانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ اس عمل کو وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اتوار کے مظاہرے میں کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت اپوزیشن شخصیات شریک ہوئیں اور مظاہرین نے وسطی نئی دہلی سے رام لیلا میدان کی جانب مارچ کیا۔ احتجاج میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہو گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن نے عدالتوں میں بھی بڑے پیمانے پر نام حذف ہونے کا معاملہ اٹھایا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فہرستوں کی نظرثانی سے اقلیتی اور کمزور طبقات غیر متناسب طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ اہل شہری دوبارہ شمولیت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی حالیہ دنوں میں اس عمل پر تنقید کی ہے، تاہم بھارت کے انتخابی ادارے نے اپنی کارروائی کو انتخابی فہرستوں کی درستگی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
یہ معاملہ بھارت میں آئندہ سیاسی مقابلے سے پہلے ووٹر اہلیت، انتخابی اداروں کی غیر جانبداری اور شہریوں کے حق رائے دہی پر ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن کے الزامات فی الحال الزامات ہی ہیں اور انہیں ثابت شدہ انتخابی دھاندلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح فہرست سے نام خارج ہونے کے مجموعی اعداد و شمار اور ان کی وجوہات کے بارے میں مختلف فریق مختلف تشریحات پیش کر رہے ہیں، جس پر عدالتی اور سیاسی بحث جاری ہے۔
