واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کے خدشات کو سنا ہے اور اگر واشنگٹن اس معاملے میں کوئی تعمیری اور مفید کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات اٹلانٹا، جارجیا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سکیورٹی تناؤ سے متعلق سوال کے جواب میں کہی۔

روبیو کے مطابق پاکستان کو ایسے دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان کی منصوبہ بندی یا سرپرستی افغانستان کی سرزمین سے ہو رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ طالبان انتظامیہ ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے اور واشنگٹن دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے، خواہ وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ بہت قریبی تعلقات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات سنے ہیں اور ان حملوں میں سے بعض کو دیکھا بھی ہے جن کی طرف اسلام آباد اشارہ کرتا رہا ہے۔ ان بیانات سے کسی نئے امریکی ثالثی عمل یا باقاعدہ سکیورٹی انتظام کا اعلان نہیں ہوا؛ روبیو نے صرف ممکنہ تعمیری کردار کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکام سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سمیت مسلح گروہوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے دی جائے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ سرحد پار موجود عسکریت پسند ڈھانچے پاکستان میں حملوں سے منسلک ہیں۔ افغان طالبان ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتے یا یہ یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ یہ متضاد مؤقف دونوں ملکوں کے تعلقات میں بنیادی تنازع بنا ہوا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں پاکستانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے دہشت گردوں کی شہریت، اسلحے اور افغان سرزمین پر مبینہ سہولت کاری سے متعلق مزید دعوے بھی نقل کیے گئے ہیں۔ یہ دعوے پاکستانی حکام کا مؤقف ہیں اور انہیں آزادانہ عدالتی یا بین الاقوامی تحقیقات کے حتمی نتائج نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح طالبان انتظامیہ پر مخصوص حملوں کی سرپرستی کا الزام بھی ایک متنازع سکیورٹی دعویٰ ہے جس کے لیے ہر واقعے کے شواہد الگ جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

روبیو کا بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو امریکی سطح پر عوامی طور پر تسلیم کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم عملی پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن، اسلام آباد اور کابل کے درمیان کوئی قابلِ عمل سفارتی یا سکیورٹی رابطہ قائم ہوتا ہے یا نہیں۔ فی الحال امریکی موقف دہشت گردی کی عمومی مخالفت اور ضرورت پڑنے پر معاون کردار ادا کرنے کی آمادگی تک محدود ہے۔