شمالی کوریا نے نئے کلسٹر بم وارہیڈز کا تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق یہ تجربہ ملک کے ہتھیاروں کے پروگرام کے تحت کیا گیا اور حکام نے دعویٰ کیا کہ نئے وارہیڈ وسیع علاقے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے بیان کردہ تکنیکی صلاحیتوں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں پیانگ یانگ کے سرکاری دعووں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کے سی این اے کے مطابق تجربے کا مقصد کلسٹر نوعیت کے وارہیڈز کی کارکردگی اور ہدف کے علاقے میں اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ شمالی کوریائی حکام نے کہا کہ آزمائش سے ہتھیار کی مطلوبہ صلاحیت کی تصدیق ہوئی۔ سرکاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ وارہیڈ مخصوص حالات میں تقریباً 12 سے 13 ہیکٹر کے ہدفی علاقے پر انتہائی کثافت کے ساتھ اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کلسٹر ہتھیار عام طور پر ایک بڑے کنٹینر یا وارہیڈ سے متعدد چھوٹے دھماکا خیز ذیلی گولے منتشر کرتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے شہری آبادی اور بعد از جنگ غیر پھٹے گولہ بارود کے خطرات کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید انسانی اور قانونی خدشات وابستہ ہیں۔ متعدد ممالک کلسٹر میونیشنز سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے فریق ہیں، تاہم تمام بڑی فوجی طاقتیں اس معاہدے میں شامل نہیں۔

شمالی کوریا کے تازہ اعلان کو جزیرہ نما کوریا اور مشرقی ایشیا میں پہلے سے موجود سکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پیانگ یانگ گزشتہ برسوں میں میزائل، جوہری صلاحیت اور روایتی ہتھیاروں سے متعلق متعدد تجربات اور اعلانات کرتا رہا ہے، جن پر جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا کی جانب سے ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

اس تجربے کے بارے میں دستیاب ابتدائی معلومات بنیادی طور پر شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا سے آئی ہیں۔ اس لیے وارہیڈ کی حقیقی رینج، درستگی، عملی تعیناتی کی حالت اور سرکاری طور پر بیان کردہ تباہ کن دائرے کے بارے میں آزادانہ تکنیکی جائزہ سامنے آنے تک حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔ موجودہ پیش رفت بہرحال پیانگ یانگ کی روایتی اسلحہ صلاحیتوں کو وسعت دینے کی جاری کوششوں کی ایک نئی مثال ہے۔