بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے بڑے احتجاجی مارچ سے قبل حکام نے رام لیلا میدان اور مجوزہ راستے کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہونے والے مارچ کا مرکزی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے، جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظرثانی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ الیکشن کمیشن اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پولیس نے ہجوم کو کنٹرول کرنے والی گاڑیاں، ڈنڈوں اور ڈھالوں سے لیس اہلکار تعینات کیے اور ممکنہ ٹریفک ڈائیورژنز سے متعلق شہریوں کو آگاہ کیا۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ اور جلسے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔ گزشتہ ماہ سے مختلف اپوزیشن، طلبہ اور نوجوان گروپ بھی انتخابی فہرستوں کے معاملے پر مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے گئے، جن میں وفات پا جانے والے، دوسری جگہ منتقل ہونے والے اور ایسے افراد شامل ہیں جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے مسلمان اور دیگر اقلیتی ووٹر غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں اس الزام کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے اہل ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔

بی جے پی نے اپوزیشن پر جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوال اٹھا کر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور کمیشن کی غیر جانب داری کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔

یہ احتجاج ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارت کا اگلا عام انتخاب 2029 میں ہونا ہے، تاہم ووٹر فہرستوں پر تنازع نے انتخابی نظام اور ادارہ جاتی اعتماد کو فوری سیاسی موضوع بنا دیا ہے۔ سکیورٹی انتظامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام بڑے اجتماع کی توقع کر رہے ہیں، جبکہ اصل سیاسی تنازع اس سوال پر مرکوز ہے کہ فہرستوں سے نام نکالنے اور دوبارہ اندراج کے عمل کی نگرانی کس حد تک شفاف اور قابلِ اعتماد ہے۔