بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران بھاری ٹرک بے قابو ہو کر مندر کے قریب موجود عقیدت مندوں سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق واقعہ اتوار کی علی الصبح پیش آیا اور ہلاکتوں کی تعداد پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اسپتال حکام کے حوالے سے بتائی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرک بھاری سامان سے لدا ہوا تھا اور ڈرائیور اس پر قابو نہ رکھ سکا۔ گاڑی نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو مذہبی تقریب کے سلسلے میں مندر کے مقام پر جمع تھے۔ واقعے کے فوری بعد امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں اور زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں زخمیوں کی حتمی تعداد اور ان کی حالت کے بارے میں مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی۔

بھارتی صدر دروپدی مرمو نے حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی واقعے پر دکھ کا اظہار کیا۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کے بارے میں مزید تحقیقات متوقع ہیں۔

ابتدائی رپورٹ میں حادثے کو ٹرک کے بے قابو ہونے سے منسلک کیا گیا ہے، تاہم کسی تکنیکی خرابی، رفتار، ڈرائیور کی حالت یا سڑک کے حالات کے بارے میں حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اسی لیے حادثے کی وجہ سے متعلق ابتدائی بیان کو حتمی تحقیقاتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

مذہبی اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث سڑکوں اور داخلی راستوں پر ٹریفک کنٹرول اور بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت اہم حفاظتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ گوالیار کے اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ حادثے کے حالات، گاڑی اور ڈرائیور سے متعلق شواہد کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کریں گے۔ ہلاکتوں کی موجودہ تعداد اسپتال حکام سے منسوب رپورٹ پر مبنی ہے اور مزید سرکاری تفصیلات آنے پر اس میں تبدیلی ممکن ہے۔