ممبئی: بھارت کی حصص منڈی میں جمعرات، آٹھ اکتوبر کو نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی، جب اہم اشاریہ سینسیکس تقریباً 32 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ رائٹرز کے مطابق خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، عالمی بانڈز کی بلند پیداوار، بھارتی روپے پر دباؤ اور بیرونی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت نے مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا۔

تجارتی دن کے اختتام پر سینسیکس 1.44 فیصد گر کر 71 ہزار 593 اعشاریہ 24 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی دوران نفٹی 50 انڈیکس 1.64 فیصد کمی کے ساتھ 22 ہزار 231 اعشاریہ 8 پوائنٹس پر آ گیا، جو اس اشاریے کی تقریباً 18 ماہ میں کم ترین اختتامی سطح تھی۔ رائٹرز کے مطابق اس روز تمام 16 بڑے شعبہ جاتی اشاریوں میں کمی ہوئی، جبکہ چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں کے حصص میں بھی زیادہ دباؤ دیکھا گیا۔

منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نو دن کے دوران تقریباً 469 ارب 90 کروڑ بھارتی روپے کے حصص خالص بنیاد پر فروخت کیے، جن کی مالیت لگ بھگ چار ارب 86 کروڑ امریکی ڈالر بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے انخلا کی مجموعی مالیت تقریباً 30 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ ایسے حالات میں غیر ملکی فروخت مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے، اگرچہ کسی ایک دن کی مندی مستقبل کی سمت کا حتمی اشارہ نہیں ہوتی۔

توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورت حال اس دباؤ کا ایک اہم سبب رہی۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی جہاز رانی پر حملوں اور امریکہ میں سمندری طوفان کے باعث رسد کے خدشات بڑھے تو برینٹ خام تیل کی قیمت چار فیصد اضافے سے 104 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک کے لیے یہ صورتحال درآمدی لاگت اور مہنگائی کے امکانات سے جڑی ہے۔

بھارتی ریزرو بینک نے ایک روز قبل بنیادی شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 5.5 فیصد کی تھی اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مزید سختی کا اشارہ دیا تھا۔ شرح سود میں اس تبدیلی کے بعد سرمایہ کاروں نے اقتصادی سرگرمیوں اور کمپنیوں کے مالی نتائج پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور ریلائنس انڈسٹریز سمیت بڑی کمپنیوں کے حصص نیچے آئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے نزدیک عالمی توانائی کی قیمتوں، سرمایہ کے بہاؤ اور مالیاتی پالیسی کا امتزاج اس مندی کی وضاحت کرتا ہے۔ تاہم آئندہ تجارتی دنوں میں اشاریوں کی سمت ان عوامل اور نئی معاشی معلومات کے مطابق بدل سکتی ہے۔