قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی انسولین کی ایک مخصوص پروڈکٹ پاکستان میں کم یاب ہو گئی ہے کیونکہ جرمنی میں اس کے مینوفیکچرر نے مصنوعات کی اپ گریڈیشن کے دوران سپلائی روک دی ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نیلسن عظیم نے ایوان میں کہا کہ جون تک قلت نہیں تھی اور دستیاب ذخیرہ ستمبر تک چلتا رہا، تاہم اکتوبر میں جرمنی سے فراہمی متاثر ہونے کے بعد مسئلہ سامنے آیا۔

وزارت صحت کے مطابق یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں اور ایشیا، آسٹریلیا اور یورپ کے بعض حصوں میں بھی اسی پروڈکٹ کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ بین الاقوامی فراہمی بحال ہوتے ہی متعلقہ پروڈکٹ دوبارہ دستیاب ہو سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں اسی نوعیت اور خوراک کے متبادل انسولین آپشنز موجود ہیں، لیکن مریضوں کو دوا تبدیل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ایم این اے سیدہ آمنہ بتول نے ایوان میں خدشہ ظاہر کیا کہ علاج تبدیل کرنا ہر مریض کے لیے آسان نہیں اور متبادل مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مریضوں کی ڈاکٹر تک رسائی اور متبادل دوا کی دستیابی کے بارے میں بھی سوال اٹھایا۔ پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ جرمن مینوفیکچرر پہلے تقریباً 3,500 کٹس فراہم کرتا تھا لیکن سپلائی کم ہو کر تقریباً 1,000 کٹس رہ گئی ہے اور اپ گریڈیشن کا عمل طویل ہونے کی صورت میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔

وزارت صحت نے درآمد کنندگان اور ڈسٹری بیوٹرز سے متبادل ذرائع سے فراہمی کا انتظام کرنے کو کہا ہے، تاہم حکام نے تسلیم کیا کہ اصل مینوفیکچرر کی پیداوار رکنے کے باعث فوری حل مشکل ہو سکتا ہے۔ چند روز قبل صحت حکام نے ملک میں وسیع پیمانے پر انسولین بحران کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنیادی مسئلہ ایک مخصوص برانڈ، انسولین گلیولیسین، کی عدم دستیابی ہے۔ وزارت کے مطابق انسولین اسپارٹ اور انسولین لسپرو سمیت متبادل تیز اثر رکھنے والی انسولین مصنوعات دستیاب ہیں۔

یہ معاملہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ادویات کی مسلسل فراہمی اور درآمدی مصنوعات پر انحصار کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ کسی مریض کو اپنی انسولین خود سے تبدیل یا بند نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خوراک اور دوا میں تبدیلی طبی نگرانی کی متقاضی ہو سکتی ہے۔ حکومت کے لیے فوری چیلنج یہ ہے کہ دستیاب متبادل مصنوعات کی مسلسل سپلائی، قیمت اور مریضوں تک رسائی یقینی بنائی جائے، جبکہ متعلقہ جرمن مینوفیکچرر کی بین الاقوامی سپلائی بحال ہونے تک مارکیٹ کی نگرانی جاری رکھی جائے۔