پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک غیر ملکی تحقیقاتی ادارے کے الرٹ کے بعد کراچی میں 14 سالہ لڑکی کو ایک بین الاقوامی آن لائن استحصالی نیٹ ورک سے محفوظ کر لیا ہے۔ این سی سی آئی اے سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے عرب نیوز کو بتایا کہ غیر ملکی ادارے نے ایک آئی پی ایڈریس فراہم کیا جسے پاکستانی تفتیش کاروں نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے کی مدد سے کراچی کے ایک گھر تک ٹریس کیا۔
حکام کے مطابق لڑکی سے ابتدائی رابطہ انٹرایکٹو گیمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوا تھا۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ رابطہ کرنے والوں نے پہلے تصاویر حاصل کیں اور بعد میں دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے ذریعے اسے اپنے پالتو جانور کو نقصان پہنچانے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد تصاویر ظاہر کرنے کی دھمکی دے کر خود کو نقصان پہنچانے کے مطالبات کیے گئے۔ افسر نے کہا کہ لڑکی اب محفوظ ہے، تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نے خود کو نقصان پہنچانے کے بعد کے مطالبات پر عمل کیا تھا۔
این سی سی آئی اے نے لڑکی کے زیر استعمال آلات تحویل میں لے کر ڈیجیٹل مواد کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ طارق نواز کے مطابق تفتیش مختلف آئی پی ایڈریسز پر جاری ہے اور ممکنہ دوسرے متاثرین کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام ان پلیٹ فارمز سے بھی معلومات طلب کر رہے ہیں جہاں رابطہ شروع ہوا تھا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ڈیجیٹل شواہد پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس مخصوص کراچی کیس میں کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق زیر تفتیش نیٹ ورک کو بین الاقوامی سطح پر بچوں کو نشانہ بنانے والے گروہوں سے جوڑا جاتا ہے اور امریکی ایف بی آئی بھی ایسے نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کر چکی ہے۔ پاکستانی افسر نے کراچی کیس میں الرٹ دینے والے غیر ملکی ادارے کا نام ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش میں پاکستان، امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ سے منسلک متاثرین کے اشارے سامنے آئے ہیں؛ پاکستان میں ایک متاثرہ فرد کی شناخت کی تصدیق ہوئی جبکہ دو مزید کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔
یہ معاملہ ابھی تفتیشی مرحلے میں ہے، اس لیے نیٹ ورک سے وابستگی، ذمہ داری یا ممکنہ ملزمان کے بارے میں حتمی عدالتی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ حکام کی موجودہ توجہ متاثرہ بچوں کے تحفظ، ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ اور سرحد پار تحقیقاتی تعاون کے ذریعے ذمہ دار افراد کی شناخت پر ہے۔

