اسلام آباد: قانونی مقدمات نمٹانے کی کابینہ کمیٹی نے سڑکوں پر اوورلوڈنگ کے خلاف جرمانوں اور سزاؤں میں اضافے کی تجاویز منظور کر لی ہیں۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اجلاس میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے سینیارٹی رولز 2026، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق قانونی ترامیم اور کاروباری ریگولیشن کے چند قواعد بھی زیر غور آئے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کمیٹی نے اوورلوڈنگ کے لیے زیادہ جرمانوں اور سزاؤں کی تجاویز اپنی سفارشات کے ساتھ منظور کیں۔ سرکاری بیان میں جرمانوں کی نئی شرحیں یا ان کے نفاذ کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے اس مرحلے کو پالیسی اور قانونی منظوری کے عمل کا حصہ سمجھا جائے گا، نہ کہ نئی شرحوں کے فوری نفاذ کا اعلان۔ منظور شدہ تجاویز کو متعلقہ قانونی اور انتظامی فورمز سے مزید کارروائی کے لیے گزرنا ہوگا۔
کمیٹی نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس سینیارٹی رولز 2026 کو اصولی منظوری بھی دی۔ اس فیصلے کا تعلق ادارے کے اندر ملازمین کی سینیارٹی کے قواعد سے ہے، جنہیں متعلقہ ضابطہ جاتی مراحل مکمل ہونے کے بعد نافذ کیا جا سکے گا۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق مسودہ قانونی ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ سرکاری اعلامیے نے ان ترامیم کی شق وار تفصیل یا صارفین پر ممکنہ مالی اثر کی وضاحت نہیں کی، اس لیے ان کی حتمی نوعیت متعلقہ قانونی متن اور بعد کے نوٹیفکیشن سامنے آنے پر واضح ہوگی۔
کمیٹی نے آسان کاروبار ٹیکنیکل یونٹ اور پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام اور کام سے متعلق مجوزہ قواعد بھی منظور کیے۔ حکومت کاروباری ضوابط کو منظم کرنے اور ریگولیٹری معلومات کو زیادہ مربوط بنانے کے لیے ان ادارہ جاتی اقدامات کو اصلاحاتی عمل کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
اعلامیے کے مطابق تمام منظور شدہ مسودات اور تجاویز اب متعلقہ فورمز کو مزید قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے بھیجی جائیں گی۔ اس بنا پر کمیٹی کا فیصلہ اہم پیش رفت ہے، تاہم اوورلوڈنگ جرمانوں، لیوی ترامیم اور نئے قواعد کے عملی اطلاق کے لیے آئندہ مراحل اور باقاعدہ نفاذی دستاویزات اہم ہوں گی۔

