خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے متعلق متعدد ڈائریکٹوریٹس اور اہم اداروں کا انتظامی کنٹرول نئے قائم کردہ ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ (اے ڈی ایس) کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے 2018 میں قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قائم کیے گئے انتظامی بندوبست میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گورنر نے متعلقہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے سابق فاٹا سے وابستہ اداروں کو نئے سیکرٹریٹ کے تحت لانے کی اجازت دی۔ اس اقدام کا تعلق ان نامزد اضلاع کے انتظامی ڈھانچے سے ہے جو قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد صوبائی نظام میں شامل کیے گئے تھے۔ نئے انتظامی بندوبست کا مقصد ان علاقوں کے ترقیاتی اور ادارہ جاتی امور کو ایک مخصوص سیکرٹریٹ کے ذریعے چلانا ہے، تاہم اس تبدیلی کے عملی اثرات کا انحصار متعلقہ محکموں کے اختیارات، بجٹ اور عملے کی منتقلی کے طریقہ کار پر ہوگا۔
ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ نے نامزد اضلاع کے لیے چیف پولیس افسر کے دفتر کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں پولیس، انتظامیہ اور ترقیاتی اداروں کی ذمہ داریوں کی تقسیم 2018 کے انضمام کے بعد سے ایک مسلسل انتظامی موضوع رہی ہے۔ تازہ فیصلے کے ذریعے بعض اداروں کو ایک نئی چھتری کے تحت لایا جا رہا ہے، جس سے پالیسی سازی اور نگرانی کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی متوقع ہے۔
سابق فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام آئینی اصلاحات کے ذریعے کیا گیا تھا اور اس کے بعد قبائلی علاقوں میں صوبائی قوانین، پولیس اور عدالتی نظام کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے گئے۔ نئی انتظامی تبدیلی کو اسی طویل عمل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ڈان کی دستیاب رپورٹ میں اس فیصلے کے تحت آنے والے ہر ادارے کے مالی یا افرادی وسائل کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ منتقلی سے ہر شعبے کی روزمرہ کارکردگی کس حد تک تبدیل ہوگی۔
گورنر کی منظوری اور اے ڈی ایس کے نوٹیفکیشن کے بعد متعلقہ صوبائی حکام کے لیے اگلا مرحلہ نئے انتظامی ڈھانچے کو عملی شکل دینا ہوگا۔ ضم شدہ اضلاع میں ترقی، امن و امان اور بنیادی خدمات سے متعلق اداروں کی کارکردگی عوامی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے نئی ساخت کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ اختیارات اور جواب دہی کس حد تک واضح رہتے ہیں اور مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

