اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا ہے کہ انٹرپول کے نیشنل سنٹرل بیورو (این سی بی) پاکستان نے گزشتہ سات ماہ کے دوران مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف 286 ریڈ نوٹس جاری کیے، جبکہ بیرون ملک موجود 53 مفرور ملزمان کو پاکستان واپس لایا گیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ریڈ نوٹس قتل، فراڈ، دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات میں مطلوب افراد کو تلاش کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ انٹرپول کا ریڈ نوٹس خود بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری نہیں ہوتا بلکہ رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کسی مطلوب شخص کی شناخت، تلاش اور متعلقہ قانونی عمل کے تحت عارضی گرفتاری کی درخواست ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق این سی بی پاکستان بیرون ملک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے پاکستانی عدالتوں یا تفتیشی اداروں کو مطلوب افراد کی واپسی کے لیے کام کر رہا ہے۔ 53 افراد کی وطن واپسی انہی بین الاقوامی رابطوں، متعلقہ ملک کے قانونی تقاضوں اور پاکستان میں زیر التوا مقدمات سے جڑی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
مفرور ملزمان کی واپسی کے معاملات میں ہر ملک کے اپنے امیگریشن، حوالگی اور عدالتی قواعد لاگو ہوتے ہیں، اس لیے ریڈ نوٹس جاری ہونے کے باوجود کسی شخص کی فوری واپسی خودکار نہیں ہوتی۔ متعلقہ پاکستانی اداروں کو مقدمے کا ریکارڈ، شناختی تفصیلات اور مطلوب قانونی دستاویزات فراہم کرنا پڑتی ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ میزبان ملک کے قوانین اور دستیاب معاہدوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مطلوب افراد کی تلاش کے لیے انٹرپول چینلز کا استعمال بڑھایا گیا ہے۔ تاہم ہر ریڈ نوٹس الزام یا درخواست کی بنیاد پر جاری ہونے والی کارروائی کا حصہ ہے؛ جرم ثابت ہونا متعلقہ عدالت کے فیصلے سے مشروط رہتا ہے۔ وطن واپس لائے گئے ملزمان کو بھی پاکستان میں قانون کے مطابق تفتیش اور عدالتی عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔




