اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تیزاب حملوں کے خلاف سزا سخت کرنے کے لیے فوجداری قانون میں ترمیم کا ایک نجی بل منظور کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336-B میں تبدیلی کرتے ہوئے تیزاب یا دیگر corrosive مادے سے شدید نقصان پہنچانے کے جرم پر سزائے موت، عمر قید یا کم از کم 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی صدارت میں ہوا، جہاں تیزاب حملوں کے علاوہ گھریلو ملازمین کے تحفظ، ایل پی جی سیفٹی، اینٹی ریپ قانون اور دیگر فوجداری معاملات سے متعلق کئی نجی بل زیرِ غور آئے۔ تیزاب حملوں سے متعلق بل سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے اسے ان کی غیر موجودگی میں منظور کیا۔

بل کے اغراض و مقاصد میں حالیہ برسوں میں تیزاب حملوں کے تسلسل اور ایسے جرائم کے نتیجے میں متاثرین کو ہونے والی مستقل جسمانی و نفسیاتی اذیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ سزاؤں کے باوجود حملے مکمل طور پر نہیں رکے، اس لیے زیادہ سخت سزا ممکنہ مجرموں کے لیے deterrent ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ مؤقف بل کی قانون سازی کی دلیل ہے؛ کسی بھی مخصوص مقدمے میں جرم اور سزا کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

کمیٹی نے گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو الگ جرم بنانے سے متعلق بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا۔ اس تجویز میں جسمانی تشدد، جنسی ہراسانی، دھمکیاں، جبری مشقت، اجرت روکنے، شناختی دستاویز ضبط کرنے، خوراک یا طبی سہولت سے محروم کرنے اور تضحیک آمیز سلوک کو جرم کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سنگین چوٹ یا موت کی صورت میں عمر قید تک کی سزا کی تجویز بھی شامل ہے۔

اسی اجلاس میں رہائشی علاقوں اور سڑک کنارے غیر محفوظ طریقے سے ایل پی جی کو بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں میں منتقل کرنے کے خلاف سزائیں بڑھانے کی ترامیم بھی منظور کی گئیں۔ ایک دوسرے بل میں نجی اسپتالوں یا کلینکس کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر لاش روکنے کو قابلِ سزا جرم بنانے کی تجویز دی گئی۔

کمیٹی کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ تمام تجاویز فوری طور پر قانون بن گئی ہیں۔ نجی بلوں کو سینیٹ اور، جہاں آئینی طور پر ضروری ہو، قومی اسمبلی کی منظوری سمیت باقی پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا اور حتمی قانون سازی متعلقہ آئینی طریقہ کار کے تحت ہوگی۔ اس مرحلے پر کمیٹی نے صرف سفارش اور منظوری کی سطح پر ان ترامیم کو آگے بڑھایا ہے۔

تیزاب حملوں سے متعلق مجوزہ سزا پر آئندہ پارلیمانی بحث میں deterrence، تناسبِ سزا، انسانی حقوق، ثبوت کے معیار اور موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ جیسے پہلو اہم رہیں گے۔ کمیٹی کا فیصلہ اس موضوع کو دوبارہ قومی قانون سازی کے ایجنڈے پر نمایاں طور پر لے آیا ہے۔