اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان بیت المال کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ کا وہ حکم برقرار رکھا ہے جس کے تحت دو ہندو نابالغ بچیوں کو پاکستان بیت المال کے مستحقین میں رجسٹر کرکے فی کس 10 ہزار روپے ماہانہ مالی معاونت دینا ہوگی۔ عدالت کے مطابق اس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہوگا اور ادائیگی ان کی شادی تک جاری رہے گی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔ معاملہ سندھ ہائیکورٹ کے یکم دسمبر 2022 کے فیصلے کے خلاف پاکستان بیت المال کی اپیل سے پیدا ہوا تھا۔ ہائیکورٹ نے دو بچیوں، جسیکا اور سانیکا، کی کفالت کے لیے سرکاری فلاحی ادارے کو مالی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بچیوں کی والدہ ریتا کی شادی روی کمار سے 2012 میں ہوئی تھی۔ روی کمار کا 2017 میں انتقال ہوگیا، جس کے بعد والدہ کے پاس اپنی اور دونوں بچیوں کی کفالت کے لیے مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ اس صورتحال میں انہوں نے بچیوں کے دادا رام راج سے نان نفقہ کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالتی مواد میں یہ بھی سامنے آیا کہ دادا خود عمر رسیدہ، بیمار اور انتہائی محدود وسائل کے حامل تھے اور خیراتی رہائش گاہ میں مقیم تھے۔
فیملی کورٹ نے ابتدائی طور پر دادا کو فی بچی تین ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہونا تھا۔ بعد میں یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچا جہاں عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ خاندانی قانون کے تحت دادا پر ذاتی طور پر یہ مالی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی، لیکن بچیوں کی حقیقی مالی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بیت المال کو معاونت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سپریم کورٹ نے موجودہ کیس میں ہائیکورٹ کی مداخلت کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ مقدمات کے لیے ایک اصولی فریم ورک بھی بیان کیا۔ عدالت نے کہا کہ جب کسی مقدمے میں قانونی سوال کے حل کے باوجود متاثرہ فریق کی بنیادی معاشی یا سماجی مشکل برقرار رہے اور کوئی سرکاری فلاحی ادارہ اس مقصد کے لیے موجود ہو، تو عدالت مناسب کیس کو اس ادارے کے سامنے غور کے لیے بھیج سکتی ہے۔ اس کے بعد بیت المال اپنی پالیسی، اہلیت اور دستیاب وسائل کے مطابق درخواست گزار کے حالات کا جائزہ لے کر مدد کی نوعیت طے کرسکتا ہے۔
فیصلے میں اس امر کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ دونوں بچیاں ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں اور سماجی و معاشی کمزوری کا اثر اقلیتی خاندانوں پر زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ عدالت نے ریاستی اداروں کو ہدایت کے مفہوم میں یہ یاد دلایا کہ فلاحی پالیسی کے نفاذ میں ایسے وسیع سماجی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ فیصلہ ایک طرف مخصوص کیس میں مالی امداد برقرار رکھتا ہے اور دوسری طرف عدالتوں اور پاکستان بیت المال کے درمیان آئندہ ایسے مستحق مقدمات کے لیے حدود اور طریقہ کار واضح کرتا ہے، تاکہ عدالتی تحفظ اور ادارہ جاتی پالیسی دونوں کا توازن قائم رہ سکے۔




