اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ملک میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے مقدمات میں اضافے اور ان کی روک تھام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی صدارت میں ہوا، جس میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے حکام سے زیرِ التوا اور حساس مقدمات پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ لی گئی۔
کمیٹی نے کہا کہ صرف قوانین کی موجودگی کافی نہیں اور عملی نتائج کے لیے پولیس، تفتیشی اداروں، وزارتِ داخلہ اور انسانی حقوق سے متعلق سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ ارکان نے ہدایت کی کہ حکومت ایسے سخت اور قابلِ عمل اقدامات کرے جن سے موجودہ قوانین کا نفاذ بہتر ہو اور متاثرین کو بروقت تحفظ اور انصاف مل سکے۔
اجلاس میں ہینا جاوید اور آیت نور کے قتل کے مقدمات اور ڈاکٹر عائشہ سے متعلق ہراسانی کے کیس پر بھی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے اس امر پر ناراضی ظاہر کی کہ بعض مقدمات میں ذمہ دار افراد کو سزا تک پہنچانے میں تاخیر ہوئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ غفلت یا کمزور تفتیش انصاف کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ نکات کمیٹی کی تشویش اور سرکاری بریفنگ کے تناظر میں سامنے آئے؛ متعلقہ مقدمات میں حتمی مجرمانہ ذمہ داری عدالتوں کے فیصلوں سے ہی طے ہوگی۔
کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی کہ زیرِ بحث مقدمات کی مؤثر پیروی کی جائے اور تفتیشی عمل کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ جن علاقوں میں سنگین واقعات پیش آئے وہاں کے مقامی ارکانِ پارلیمان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ رکھیں، تاکہ تحقیقات میں شفافیت، جواب دہی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنایا جاسکے۔
ارکان نے ریپ اور جنسی ہراسانی کے مقدمات کو وسیع تر انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر دیکھا اور کہا کہ متعلقہ اداروں کو محض واقعے کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی تحفظ، شکایات کے فوری اندراج، ثبوت محفوظ کرنے، طبی و قانونی معاونت اور مقدمات کی مؤثر پیروی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے مختلف وزارتوں اور محکموں کے درمیان ادارہ جاتی رابطے کو اہم قرار دیا۔
پارلیمانی نگرانی کی یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے مقدمات میں تفتیش، استغاثہ اور عدالتی عمل کی رفتار پر بارہا سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ کمیٹی کی ہدایات بذاتِ خود کسی ملزم کی جرم ثابت ہونے کی حیثیت نہیں رکھتیں، لیکن ان کا مقصد ریاستی اداروں سے بہتر کارکردگی، شفاف تفتیش اور موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ کا مطالبہ کرنا ہے۔




