پاور ڈویژن اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے درآمدی کوئلہ استعمال کرنے والے بجلی گھروں کی خریداری میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی لاگت ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین تک منتقل ہوسکتی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں نے کوئلے کی خریداری کے بعض معاہدوں کو غیر شفاف اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اصلاحی اقدامات کی ضرورت بیان کی ہے۔
معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب سرکاری ملکیت کے 660 میگاواٹ جامشورو پاور پلانٹ کے لیے حالیہ مسابقتی بولی میں کراچی کی ایک سپلائر کمپنی نے فی ٹن 7.12 ڈالر رعایت کی پیشکش کی، جبکہ بعض نجی بجلی گھروں کے معاہدوں میں رعایت صرف 20 سے 50 سینٹ فی ٹن تک بتائی گئی۔ دونوں نمونوں میں یہ نمایاں فرق اس سوال کا باعث بنا کہ کیا وسیع تر اور مؤثر مسابقت کے ذریعے صارفین کے لیے ایندھن کی لاگت کم ہوسکتی تھی۔
پاور ڈویژن کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ درآمدی کوئلے کی خریداری میں اہم غیر مؤثر طریقے شناخت کیے گئے اور نئی پالیسی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ڈویژن نے اندازہ دیا کہ اصلاحی اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ 38 کروڑ روپے تک بچت ہوسکتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ سرکاری تخمینہ ہے؛ حقیقی بچت آئندہ بولیوں، درآمدی قیمت، استعمال کی مقدار اور معاہدوں کے نتائج پر منحصر ہوگی۔
نیپرا نے پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے چھ سالہ معاہدے میں 20 سے 50 سینٹ فی ٹن رعایت سے متعلق طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔ ریگولیٹر کے حکم کے مطابق بولی کی جانچ میں اندازہ شدہ مستقبل کی قیمت کو بنیاد بنانا مناسب دکھائی نہیں دیا، کیونکہ عالمی قیمت بدل سکتی ہے۔ نیپرا نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹینڈر صرف چین میں شائع ہوا اور ممکنہ سپلائرز کے وسیع حلقے تک نہیں پہنچا۔
ریگولیٹر نے کہا کہ رعایت کو بولی کی جانچ کا اہم معیار بنایا جاتا تو زیادہ مسابقتی پیشکشیں آسکتی تھیں۔ نیپرا نے کمپنی کی جانب سے طویل مدتی سپلائی معاہدے کی بروقت مکمل معلومات نہ دینے پر غلط بیانی یا عدم افشا سے متعلق کارروائی کا ذکر بھی کیا اور مارچ 2026 کے فیصلے کے بعد تین ماہ میں نئی بولی کرانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ ریگولیٹری کارروائی اور مشاہدات ہیں؛ کسی فوجداری جرم کا حتمی فیصلہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے حکم کے بعد کمپنی نے تقریباً 12 لاکھ ٹن کوئلہ خریدا، جو لگ بھگ ایک سال کی ضرورت کے برابر بتایا گیا، اور رعایت پھر قریب 50 سینٹ فی ٹن رہی۔ حکام نے جامشورو کی بولی کے مقابلے میں فرق کا تخمینہ تقریباً 80 لاکھ ڈالر بتایا۔ کمپنی کے مالی اور خریداری حکام نے ڈان کے تحریری سوالات کا جواب نہیں دیا۔
پاور ڈویژن کے مطابق پاکستان میں تقریباً 5,280 میگاواٹ مشترکہ صلاحیت کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹس مکمل یا جزوی طور پر درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے خریداری میں مسابقت، مکمل افشا اور ریگولیٹری نگرانی کا اثر صرف ایک پلانٹ تک محدود نہیں رہتا۔ اردو ہیڈ لائنز اس معاملے کو سرکاری اداروں کی نشاندہی اور جاری اصلاحی عمل کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، حتمی عدالتی سزا یا ثابت شدہ مجرمانہ بدعنوانی کے طور پر نہیں۔




