وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اپنے معدنی وسائل کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ لگاتا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ بات وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سامنے آئی، جو نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی جنوبی ایشیا سے متعلق ڈائریکٹر فروا امین کے ساتھ ان کی گفتگو پر مبنی تھا۔ یہ رقم سرکاری عہدیدار کا تخمینہ اور دعویٰ ہے؛ رپورٹ میں کسی مکمل آزاد ارضیاتی آڈٹ یا فوری قابلِ وصول آمدن کے طور پر اسے پیش نہیں کیا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ بڑے پیمانے کی کان کنی کے منصوبوں کے لیے بھاری ابتدائی سرمایہ کاری اور طویل تیاری درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ بین الاقوامی وسائل کی کمپنیوں کے لیے ایک اہم رکاوٹ رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میکرو اکنامک استحکام میں بہتری کے بعد حکومت غیر ملکی شراکت داروں، خصوصاً امریکی کمپنیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر نے اس سلسلے میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے ساتھ مفاہمتی یادداشت، ممکنہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک فنانسنگ اور اہم معدنیات سے متعلق وزارتی عمل میں شرکت کا ذکر کیا۔ مفاہمتی یادداشت یا مذاکرات کسی حتمی سرمایہ کاری، پیداوار یا آمدن کی ضمانت نہیں ہوتے۔ عملی منصوبہ بننے کے لیے ذخائر کی فنی تصدیق، ماحولیاتی جائزہ، قانونی اجازت، مالی بندوبست، مقامی آبادی کے حقوق اور شفاف معاہدے ضروری ہوں گے۔
گفتگو میں سندھ طاس معاہدے اور پانی کے تحفظ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ احسن اقبال نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو پاکستان کے لیے نیا سلامتی چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذخیرہ آب بڑھانے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر تیز کر رہی ہے اور دیامر بھاشا و مہمند ڈیم مکمل ہونے کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ ذخیرہ شامل کرسکتے ہیں۔ یہ بھی منصوبوں کی تکمیل سے مشروط سرکاری تخمینہ ہے۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں جیو اکنامکس کو مرکزی حیثیت دینے کی بات کی اور ساتھ واضح کیا کہ واشنگٹن سے تعاون چین کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق چین نے سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے توانائی، شاہراہوں، فائبر آپٹک نیٹ ورک اور گوادر بندرگاہ سے متعلق منصوبوں میں حصہ لیا۔
معدنی دولت کے بڑے عدد کو قومی آمدن یا سرکاری خزانے میں موجود رقم سمجھنا درست نہیں۔ زیرِ زمین وسائل کی اندازہ شدہ مالیت اور قابلِ معاشی استخراج کے درمیان معیار، گہرائی، عالمی قیمت، ٹیکنالوجی، توانائی، پانی، نقل و حمل اور سرمایہ کاری جیسے کئی مراحل ہوتے ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز نے اسی لیے سرخی اور رپورٹ میں 7 ٹریلین ڈالر کو احسن اقبال کا دعویٰ قرار دیا ہے، ثابت شدہ نقد مالیت نہیں۔




