پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے کاروباری سیشن کے دوران اتار چڑھاؤ برقرار رہا، تاہم کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے اختتام پر 404.02 پوائنٹس کی بہتری کے ساتھ سبز نشان میں بند ہوا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس 0.23 فیصد بڑھ کر 177,370.71 پوائنٹس پر پہنچا۔ ابتدائی کمزوری کے بعد چند اہم شعبوں میں منتخب خریداری سامنے آئی، لیکن مجموعی سرمایہ کار شرکت محتاط رہی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مسلسل تبدیلی دیکھی گئی اور خریداری کا رجحان زیادہ تر منتخب بلیو چپ اور سائیکلیکل حصص تک محدود تھا۔ وسیع تر مارکیٹ کو 178,000 پوائنٹس کے قریب مزاحمت کا سامنا رہا، جس کے باعث قلیل مدتی سمت ایک محدود دائرے میں دکھائی دی۔ یہ بروکریج کا تجزیہ ہے، مستقبل کی یقینی پیش گوئی نہیں۔

یونائیٹڈ بینک، میزان بینک، فوجی فرٹیلائزر، حبیب بینک اور لکی سیمنٹ ان حصص میں شامل تھے جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں تقریباً 667 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے مقابلے میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، اینگرو ہولڈنگز اور سسٹمز لمیٹڈ سمیت منفی کارکردگی دکھانے والے حصص نے مجموعی طور پر تقریباً 201 پوائنٹس کم کیے۔ مختلف کمپنیوں کی اس متضاد کارکردگی نے سیشن کی مجموعی تیزی کو محدود رکھا۔

مارکیٹ میں حصص کا کاروباری حجم 30.92 فیصد کم ہو کر 64 کروڑ 48 لاکھ شیئرز رہا، جبکہ کاروباری مالیت 28.87 فیصد کمی کے ساتھ 31.4 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیکس کی معمولی بحالی کے باوجود مجموعی شرکت گزشتہ سیشن کے مقابلے میں کم رہی۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق بینچ مارک انڈیکس تقریباً 1,200 پوائنٹس کے دائرے میں رہا۔ سیشن کے دوران بلند ترین سطح 177,776 اور کم ترین سطح 176,577 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔ دن کے اختتامی اضافے کو اسی وسیع اتار چڑھاؤ کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے دورے سے واپس آنے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید بڑھائی، جسے مارکیٹ کے جذبات کے لیے ایک مثبت عنصر سمجھا گیا۔ ایرانی صدارتی ترجمان سے منسوب بیان میں دورے کو نتیجہ خیز قرار دیا گیا، تاہم اس کے عملی نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آئے۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں تین فیصد کمی بھی کاروباری پس منظر کا حصہ رہی۔

عید میلاد النبی کی سرکاری تعطیل کے باعث بدھ کو مارکیٹ بند رہنا تھی، اس لیے تعطیل کے دوران آنے والی داخلی اور بین الاقوامی خبریں آئندہ سیشن میں سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز نے انڈیکس، حجم اور کاروباری مالیت کے اعداد کو ڈان میں شائع مارکیٹ ڈیٹا سے لیا ہے اور کسی حصص کی خرید یا فروخت کی سفارش نہیں کی۔