کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے بجلی کمپنیوں کی جانب سے مانگی گئی دو مجوزہ ایڈجسٹمنٹس مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صنعتی و تجارتی رہنماؤں نے جولائی کے لیے 2 روپے 51.82 پیسے فی یونٹ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور 1 روپے 34 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر اعتراض کیا۔ یہ دونوں ابھی درخواستیں ہیں؛ رپورٹ میں ان کی منظوری کو حتمی فیصلہ نہیں بتایا گیا۔

کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر دونوں ایڈجسٹمنٹس ایک ساتھ منظور ہوکر ستمبر کے بلوں میں شامل ہوئیں تو ٹیکسوں سے پہلے تقریباً 3 روپے 86 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس مجوزہ اثر کو صنعت کے لیے شدید قرار دیا اور کہا کہ پہلے ہی مشکلات سے دوچار کاروباری اداروں کے لیے بجلی کی مزید لاگت برداشت کرنا دشوار ہوگا۔

ان کے حساب کے مطابق اگست کے بعد موجودہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ یعنی 1 روپے 98.57 پیسے فی یونٹ کی رعایت بھی ختم ہو رہی ہے، جبکہ اگست کے بلوں میں 75.03 پیسے فی یونٹ مثبت فیول ایڈجسٹمنٹ موجود ہے۔ کے سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اگست کی مجموعی وقتی ایڈجسٹمنٹ سے ستمبر کی مجوزہ ایڈجسٹمنٹس تک فرق ٹیکسوں سے پہلے 5 روپے 9 پیسے فی یونٹ سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ یہ چیمبر کا حساب اور موقف ہے، نیپرا کا حتمی ٹیرف حکم نہیں۔

ریحان حنیف نے حکومتی سطح پر کاروباری لاگت کم کرنے، صنعت بحال کرنے اور برآمدات تیز کرنے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی لاگت میں مجوزہ اضافہ ان مقاصد کے برعکس ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے مستقل اور عارضی چارجز ایک ساتھ بڑھتے رہے تو برآمدی صنعت کے لیے عالمی منڈی میں قیمت برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ عموماً کسی مخصوص مدت میں ایندھن اور بجلی پیدا کرنے کی اصل لاگت کے فرق سے متعلق ہوتی ہے، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی کے نظام کے دوسرے منظور شدہ اخراجات شامل ہوسکتے ہیں۔ ہر درخواست کو نیپرا کے متعلقہ عمل، سماعت اور ریکارڈ کے بعد منظور، تبدیل یا مسترد کیا جاسکتا ہے۔ اس خبر میں مجوزہ اعداد کو نافذ شدہ نئے نرخ نہیں کہا جا رہا۔

صارفین اور کاروباروں کے اصل بل پر اثر کا انحصار نیپرا کے حتمی فیصلے، اطلاق کی مدت، صارف کی کیٹیگری، استعمال شدہ یونٹس اور ٹیکسوں پر ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز حتمی حکم سامنے آنے پر منظور شدہ رقم اور مؤثر مہینے کو الگ طور پر رپورٹ کرے گا۔ موجودہ پیش رفت کراچی چیمبر کے اعتراض اور نیپرا کے سامنے زیرِ غور درخواستوں تک محدود ہے۔