اسلام آباد: Ipsos کے تازہ صارف اعتماد سروے میں صرف 14 فیصد جواب دہندگان نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً چار ماہ پہلے یہ تناسب ہر پانچ میں سے ایک فرد کے قریب تھا، جس کے بعد نئی لہر میں چھ فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ ہوئی۔ یہ نتیجہ معاشی پیداوار یا قومی حسابات کا سرکاری پیمانہ نہیں بلکہ سروے میں شامل افراد کے تاثر اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے کے مطابق معیشت کی موجودہ مضبوطی کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے مردوں، بالغ عمر کے افراد، اعلیٰ آمدنی والے طبقات اور پنجاب و سندھ کے رہائشیوں میں دیکھی گئی۔ مستقبل کے بارے میں ہر چار میں سے تقریباً ایک جواب دہندہ نے توقع ظاہر کی کہ معیشت مضبوط ہوگی۔ یہ امید شہری علاقوں، نسبتاً خوشحال طبقوں اور بلوچستان میں زیادہ رپورٹ ہوئی، تاہم اکثریت نے واضح مثبت توقع کا اظہار نہیں کیا۔
عوامی مسائل کی فہرست میں مہنگائی بدستور سب سے بڑی تشویش رہی۔ اس کے بعد بے روزگاری، غربت اور بجلی کی بلند قیمتوں کا ذکر کیا گیا، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پہلی بار پانچ بڑی تشویشوں میں شامل ہوگئی اور اضافی ٹیکسوں سے متعلق فکر سے اوپر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمتوں پر تشویش نو فیصد پوائنٹس بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچی، جس سے توانائی کی لاگت اور فراہمی دونوں الگ مگر نمایاں مسائل کے طور پر سامنے آئے۔
سرمایہ کاری کے بارے میں اعتماد بھی محدود رہا۔ صرف 15 فیصد جواب دہندگان نے سرمایہ لگانے کے معاملے میں اعتماد ظاہر کیا، جبکہ ملازمت کے تحفظ کا احساس 16 فیصد تک رہا، جو رپورٹ کے مطابق اگست 2024 کی سطح کے برابر ہے۔ یہ اعداد حصص بازار، کاروباری سرمایہ کاری یا باضابطہ روزگار کے سرکاری اعداد نہیں بلکہ افراد کے اپنے مالی فیصلوں اور ملازمت سے متعلق احساسِ تحفظ کی پیمائش ہیں۔
ملک کی مجموعی سمت کے سوال پر تقریباً ہر چار میں سے ایک پاکستانی نے کہا کہ ملک درست راستے پر جا رہا ہے۔ صوبائی تقسیم میں بلوچستان کے 31 فیصد، پنجاب کے 26 فیصد، سندھ کے 21 فیصد اور خیبر پختونخوا کے 14 فیصد جواب دہندگان نے مثبت رائے دی۔ یہ فرق ہر صوبے کی پوری آبادی کے بارے میں قطعی نتیجہ نہیں اور اسے سروے کے نمونے، سوالات اور ممکنہ شماریاتی غلطی کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔
گھریلو خریداری کے حوالے سے صرف ہر دس میں سے ایک جواب دہندہ نے خود کو آرام دہ پوزیشن میں بتایا، اگرچہ یہ تناسب گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا۔ دوسری طرف اپنی موجودہ ذاتی مالی صورت حال کے بارے میں مثبت تاثر 19 فیصد تک گرنے کی اطلاع دی گئی۔ یوں مستقبل کی محدود امید اور موجودہ مالی دباؤ ایک ساتھ سروے کے نتائج میں دکھائی دیتے ہیں۔
Ipsos پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبد الستار نے نتائج کو مکمل اعتماد کے بجائے محتاط بحالی کی تصویر قرار دیا۔ ان کے مطابق ذاتی سطح پر مستقبل کی توقعات اور بعض خریداری رجحانات میں بہتری ہے، مگر سرمایہ کاری، بڑی خریداری اور ملازمت کے تحفظ میں کم اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ابھی مضبوط مالی وعدوں کے لیے تیار نہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کی دستیاب رپورٹوں میں سروے کے نمونے کا حجم، انٹرویو کی تاریخیں، طریقۂ انتخاب اور مارجن آف ایرر درج نہیں تھے۔ اس لیے فیصدی نتائج کو پوری آبادی کا بے خطا تخمینہ نہیں بلکہ Ipsos کی تازہ سروے لہر میں ریکارڈ ہونے والا رجحان سمجھنا مناسب ہے۔




