تہران/عمان: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی تصادم میں نئی شدت آ گئی ہے، جب ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت امریکی فورسز کی جانب سے متعدد ایرانی آئل ٹینکروں کو تباہ کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے واشنگٹن نے پاسداران انقلاب کی مالی معاونت سے منسلک نیٹ ورک کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی اڈے کو شدید نقصان پہنچایا گیا، تاہم اردنی حکام نے کہا کہ زیادہ تر میزائل روک لیے گئے اور جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی حکام نے بھی ایرانی حملے کو مؤثر فوجی نقصان پہنچانے میں ناکام قرار دیا۔ فریقین کے متضاد دعوؤں کے باعث نقصان کی مکمل آزادانہ تصدیق محدود ہے، اس لیے ہر فریق کے بیانات کو اسی نسبت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب دس جہازوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا، جن میں امریکی جہازوں اور آئل ٹینکروں کا ذکر کیا گیا۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے علاقے میں فوجی کارروائیوں نے توانائی کی عالمی رسد کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ جہاز رانی کے اعداد و شمار بھی حالیہ دنوں میں ہرمز سے گزرنے والی تجارتی نقل و حرکت میں کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
اسی دوران یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جس سے تنازع مزید علاقائی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی تنصیبات اور شہری علاقوں پر حملوں کی اطلاعات نے امریکی اتحادیوں کی براہ راست سکیورٹی کو بھی اس بحران کا حصہ بنا دیا ہے۔
علاقائی کشیدگی کا فوری معاشی اثر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آیا اور برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ خلیجی توانائی کے راستوں، امریکی فوجی تنصیبات اور علاقائی اتحادیوں پر مزید حملے جوابی کارروائیوں کے نئے سلسلے کو جنم دے سکتے ہیں۔ فی الحال سفارتی کشیدگی کے ساتھ فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور فریقین کے دعووں کی مکمل آزادانہ تصدیق ہر مقام پر ممکن نہیں۔




