واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ایک وفاقی عدالت کے اس فیصلے کو معطل کیا جائے جس کے تحت ریاستوں کی ووٹر فہرستوں میں شہریت کی تصدیق کے لیے نظرثانی شدہ Systematic Alien Verification for Entitlements، یا SAVE، ڈیٹابیس کے استعمال کو روکا گیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ نظام ریاستوں کی درخواست پر ووٹرز کی شہریت کی جانچ میں وفاقی مدد فراہم کرنے اور انتخابی فہرستوں کی درستگی برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ جون میں ایک وفاقی جج نے نظرثانی شدہ نظام کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ اپیل کے مرحلے پر بھی انتظامیہ کو فوری ریلیف نہیں ملا۔

مقدمے کے مخالف فریقوں اور ووٹنگ حقوق سے وابستہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ SAVE نظام میں غلط شناخت کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر قدرتی طور پر شہریت حاصل کرنے والے امریکی شہریوں کے بارے میں۔ ان کا خدشہ ہے کہ ڈیٹابیس کی غلطیوں سے اہل ووٹرز کو فہرستوں سے نکالنے یا ان کی رجسٹریشن پر غیر ضروری سوالات اٹھنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

انتظامیہ ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ریاستوں کی مدد کرنے کا اختیار ہے اور شہریت کی تصدیق انتخابی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ قانونی تنازع اس بات پر مرکوز ہے کہ ڈیٹابیس کے استعمال کی قانونی بنیاد کیا ہے، اس کی معلومات کتنی قابل اعتماد ہیں اور ریاستی ووٹر فہرستوں پر اس کے ممکنہ اثرات کس حد تک آئینی و قانونی حقوق سے مطابقت رکھتے ہیں۔

یہ معاملہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جس کے باعث ووٹر اہلیت اور انتخابی انتظام سے متعلق قانونی لڑائیاں مزید سیاسی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ مخالفین نے انتظامیہ کے اقدامات کو ووٹنگ حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ حکومت انہیں انتخابی نظام کی حفاظت کا حصہ کہتی ہے۔ یہ دونوں فریقوں کے قانونی اور سیاسی مؤقف ہیں؛ سپریم کورٹ نے ابھی درخواست کے بنیادی قانونی نکات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

امریکی سپریم کورٹ سے فی الحال بنیادی مقدمے کا مکمل فیصلہ نہیں بلکہ نچلی عدالت کے حکم کے خلاف عبوری ریلیف مانگا گیا ہے۔ عدالت کا آئندہ حکم طے کرے گا کہ قانونی کارروائی جاری رہنے کے دوران SAVE ڈیٹابیس کو ووٹر شہریت کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا سکے گا یا موجودہ پابندی برقرار رہے گی۔