اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن کے تنازع کے ممکنہ پھیلاؤ کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے شدہ مکہ دفاعی اتحاد کی اجتماعی دفاعی شقیں فعال ہو سکتی ہیں۔ ڈان اور عرب نیوز پاکستان نے 9 ستمبر کو وزیر دفاع کے ایک ٹی وی انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں پورا کرے گا۔
خواجہ آصف سے سعودی عرب میں تیل اور دیگر تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد پوچھا گیا کہ آیا تین ملکی دفاعی معاہدہ عملی طور پر فعال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اس اصول پر ابہام نہیں کہ ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تمام ارکان کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے یا غیر اشتعال انگیز جارحیت ہوتی ہے تو مشترکہ دفاعی شقیں لاگو ہونے کا سوال پیدا ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے علم میں حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی مخصوص رابطے کی تفصیل نہیں، تاہم انہوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت ردعمل کا پابند ہوگا۔ یہ بیان کسی پاکستانی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان نہیں ہے؛ فی الحال یہ وزیر دفاع کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں کی تشریح اور ممکنہ حالات کے بارے میں پالیسی مؤقف ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں حوثی حملوں سے تیل کی تنصیبات سمیت شہری اور اقتصادی مقامات متاثر ہوئے اور 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ خواجہ آصف نے معاہدے کو جارحانہ نوعیت کا اتحاد قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد رکن ملک کے خلاف حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع اور مدد ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورت حال قابو میں آ جائے گی اور مزید پھیلاؤ نہیں ہوگا۔
مکہ دفاعی اتحاد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اگست 2026 میں طے پایا تھا اور اس کا بنیادی تصور اجتماعی بازدارندگی اور مشترکہ دفاع بتایا گیا ہے۔ وزیر دفاع کے تازہ بیان نے اس معاہدے کی عملی حدود پر توجہ بڑھا دی ہے، کیونکہ خطے میں یمن، ایران اور خلیجی سلامتی سے متعلق کشیدگی پہلے ہی توانائی، جہاز رانی اور علاقائی دفاعی پالیسی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
خواجہ آصف نے حوثیوں کو غیر ریاستی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تنازع کو سرحد پار پھیلانے کے نتائج مدنظر رکھنے چاہئیں۔ تاہم کسی مخصوص حملے کے جواب میں پاکستان یا دیگر اتحادی ممالک کی فوجی کارروائی، تعیناتی یا مشترکہ آپریشن کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ خبر کا مرکزی نکتہ وزیر دفاع کا یہ بیان ہے کہ معاہدہ ضرورت کی صورت میں فعال ہو سکتا ہے، نہ کہ یہ کہ اتحاد نے بالفعل کسی جنگی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔




