تائی پے: تائیوان میں امریکا کے اعلیٰ سفارتی نمائندے ریمنڈ گرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے تائیوان میں فوجی تنازع عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے تائی پے میں ایک دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن اور غلط فہمیوں سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
روئٹرز کے مطابق گرین نے کہا کہ تائیوان کے گرد کسی بڑے تصادم کے معاشی اثرات دوسری عالمی جنگ کے بعد دیکھی گئی بڑی رکاوٹوں سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں طاقت کا ایسا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جو جنگ کے امکانات کم کرے اور تائیوان کو اپنے دفاع کی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد دے۔
امریکی نمائندے نے امریکا اور چین کے درمیان آئندہ اعلیٰ سطحی رابطوں کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ فعال سفارت کاری غلط اندازوں اور غیر ارادی تصادم کے خطرات کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ واشنگٹن تائیوان کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات نہیں رکھتا، لیکن امریکی قانون کے تحت اسے دفاعی سازوسامان فراہم کرتا اور جزیرے کی دفاعی صلاحیت کی حمایت کرتا ہے۔
تائیوان کی نائب صدر شیاو بی کھم نے اسی فورم میں کہا کہ دفاعی صلاحیت اور معاشرتی لچک مضبوط کرنا امن کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ تائیوان کی حکومت نے دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کا منصوبہ بنایا ہے، جسے بیجنگ کی بڑھتی فوجی سرگرمیوں اور دباؤ کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اتحاد کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں کہتا۔ تائیوان کی منتخب حکومت بیجنگ کے خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو کرنا چاہیے۔ چین کے تائیوان امور کے دفتر نے دوبارہ کہا ہے کہ اتحاد تاریخی رجحان ہے، جبکہ تائی پے 'ایک ملک، دو نظام' کے ماڈل کو قبول نہیں کرتا۔
تائیوان عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا مرکزی حصہ ہے، اس لیے کسی بھی فوجی تنازع کے اثرات صرف مشرقی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ تجارت، شپنگ، چپ سپلائی، مالیاتی منڈیوں اور عالمی پیداوار پر بڑے اثرات کا خدشہ اسی وجہ سے بار بار بین الاقوامی مباحث میں سامنے آتا ہے۔ گرین کا بیان کسی فوری جنگ کی پیش گوئی نہیں بلکہ ممکنہ تنازع کے خطرات سے متعلق سفارتی انتباہ ہے۔




