تہران/عمان: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں بدھ کو نئی شدت آ گئی جب ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایک روز قبل پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئیں۔

روئٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ایرانی ٹینکروں کو اس پس منظر میں نشانہ بنایا گیا کہ پاسداران انقلاب نے گزشتہ دو دنوں میں ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر دو مرتبہ بیلسٹک میزائل داغنے کی کوشش کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق ان واقعات میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ امریکا نے ٹینکروں کو ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے جواباً اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے پر میزائل حملے میں بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا، تاہم اردنی حکام نے کہا کہ بیشتر میزائل روک لیے گئے اور جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام نے بھی حملے کو غیر مؤثر قرار دیا۔ فریقین کے دعووں میں فرق کے باعث نقصان کی مکمل آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا، جن میں امریکی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کا ذکر کیا گیا۔ خطے میں سمندری راستوں پر حملوں کی شدت نے توانائی کی ترسیل اور تجارتی جہاز رانی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہاں سکیورٹی کی خرابی عالمی توانائی منڈی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

اسی دوران یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے اندر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات نے علاقائی کشیدگی مزید بڑھا دی۔ سعودی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب اور بعض اوقات اس سطح سے اوپر پہنچی۔

موجودہ مرحلے میں امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر فوجی اور اقتصادی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ہر فریق کی جانب سے حملوں، اہداف اور نقصان سے متعلق متعدد دعوے جاری کیے گئے ہیں، جنہیں جہاں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا وہاں اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ مسلسل جوابی کارروائیاں خلیج، اردن، سعودی عرب اور اہم سمندری راستوں میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔