تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، جس سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کے بارے میں سکیورٹی خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔ یہ دعویٰ ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کیا۔

ذوالفقاری کے مطابق نئی مائنز رات کی ایک کارروائی کے دوران ان راستوں پر بچھائی گئیں جنہیں ایران غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ انہوں نے امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے ان دعوؤں کا مذاق بھی اڑایا جن میں کہا گیا تھا کہ ٹرانزٹ روٹس سے سمندری بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔

امریکی سینٹ کام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اہم بحری راستوں سے مائنز ہٹا دی گئی ہیں اور بعض جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی رپورٹس کو غلط معلومات قرار دیا تھا۔ اس طرح ہرمز کی موجودہ حالت کے بارے میں واشنگٹن اور تہران کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ آزاد ذرائع سے نئی بچھائی گئی مائنز کی تعداد یا مقام کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور عالمی سمندری راستوں سے جوڑتی ہے اور تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے بارودی سرنگوں کا خطرہ صرف فوجی معاملہ نہیں بلکہ تجارتی جہاز رانی، انشورنس، توانائی کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین کے لیے بھی براہ راست اہمیت رکھتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ نئی ایرانی دعوے کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ مائنز واقعی کن راستوں پر موجود ہیں، انہیں کس حد تک فعال خطرہ سمجھا جاتا ہے اور بحری فورسز و تجارتی کمپنیوں کی جانب سے کیا حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔