نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی آئندہ کثیرالجہتی سفارتی مصروفیات کی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے، جن میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نمایاں ہے۔

وزارت خارجہ کے خصوصی سیکریٹری برائے اقوام متحدہ نے تیاریوں، متوقع اجلاسوں اور اہم سفارتی موضوعات پر بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کی ترجیحات کے بارے میں رہنمائی دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو جامع تیاری اور مؤثر رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں عالمی رہنما سلامتی، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تنازعات سمیت بڑے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے فلسطین، کشمیر، انسداد دہشت گردی، موسمیاتی مالیات اور ترقیاتی فنانسنگ اہم سفارتی موضوعات میں شامل رہتے ہیں۔

پاکستان اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہان کونسل کی چیئرمین شپ بھی سنبھال چکا ہے، جس سے کثیرالجہتی سفارت کاری کا ایجنڈا مزید وسیع ہوا ہے۔ مختلف فورمز پر ایک ہی پالیسی پیغام اور وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی سفارتی مؤثریت کے لیے اہم ہوتی ہے۔

تیاریوں کا اجلاس کسی نئے بین الاقوامی معاہدے یا پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں بلکہ آئندہ سفارتی سرگرمیوں کی ادارہ جاتی منصوبہ بندی ہے۔ حتمی پاکستانی وفد، ملاقاتوں اور تقاریر کی مکمل تفصیلات متعلقہ تاریخوں کے قریب سامنے آئیں گی۔ موجودہ ہدایت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان اپنے اہم قومی اور علاقائی معاملات پر مربوط مؤقف کے ساتھ شریک ہو۔