واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت یورپی ممالک سے اس فوجی امداد اور گولہ بارود کی رقم واپس مانگے گی جو امریکا نے روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کیا تھا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے بڑی مقدار میں وسائل بلا معاوضہ فراہم کیے اور ان کے خیال میں یورپ کو اس کی ادائیگی کرنی چاہیے تھی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اس وقت اپنے لیے گولہ بارود ذخیرہ کر رہا ہے اور اتحادی ممالک کو فروخت میں عارضی کمی ہو سکتی ہے، تاہم ان کے مطابق فروخت جلد دوبارہ شروع ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی میزائل اور گولہ بارود کے ذخائر کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رائٹرز نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ ایران جنگ میں طویل فاصلے تک انتہائی درست نشانہ لگانے والے میزائلوں کے بڑے استعمال نے امریکی فوجی تیاری کے بارے میں خدشات بڑھائے ہیں۔ ٹرمپ نے ذخائر ختم ہونے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیداوار بڑھائی جا رہی ہے۔
یوکرین کے لیے امریکی اور یورپی فوجی مدد 2022 کے بعد مغربی دفاعی پالیسی کا مرکزی حصہ رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں ایسا انتظام بھی بنایا گیا جس کے تحت یورپی ممالک امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا تازہ بیان ماضی میں دی گئی امداد کے مالی بوجھ کو دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کا اشارہ ہے۔
یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکا ماضی کی امداد کی کس قانونی یا مالی بنیاد پر واپسی طلب کرے گا، کن یورپی ممالک سے کتنی رقم مانگی جائے گی اور اتحادی اس مطالبے پر کیا ردعمل دیں گے۔ اس لیے صدر کا اعلان پالیسی ارادے کے طور پر اہم ہے، لیکن اسے طے شدہ وصولی یا یورپی رضامندی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔




