کھٹمنڈو: نیپال میں چین کی سرحد کے قریب گلیشیئر کے انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 ہزار گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا۔ 26 اگست کو برف، چٹانوں اور مٹی کا بہت بڑا ریلا آبادیوں سے گزرا تھا جس نے کئی بستیاں اور دیہات شدید متاثر کیے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ دھرم راج اپریتی نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق 7,500 گھر مکمل طور پر بہہ گئے یا ملبے اور کیچڑ تلے دب گئے۔ بہت سے ایسے مکانات جو کھڑے رہ گئے ہیں وہ بھی رہائش کے قابل نہیں، جس کے باعث مجموعی تعمیر نو کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ بستیوں کو عین انہی خطرناک مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔ اس لیے محفوظ مقامات کی نشاندہی تعمیر نو کے منصوبے کا اہم حصہ ہوگی۔
امدادی کارکن اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں پھنسے کارکنوں تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہزاروں افراد لاپتہ اور بڑی تعداد میں بے گھر بتائی گئی ہے۔ تباہی نے سڑکوں، اسکولوں، پانی و صفائی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے امدادی کام پیچیدہ ہو گیا ہے۔
نیپال ہمالیائی خطے میں موسمیاتی اور ارضیاتی خطرات کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ گلیشیئرز، بلند پہاڑی جھیلیں اور تیز ڈھلوانیں شدید بارش یا برفانی تبدیلیوں کے دوران اچانک آفات کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ تازہ سانحے کے بعد فوری امداد کے ساتھ طویل مدتی بحالی، محفوظ آبادکاری اور موسمیاتی خطرات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی ایک بڑا قومی چیلنج بن گئی ہے۔




