تہران: ایران کی فوج نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے اہم بندرگاہی شہر بندر عباس کے قریب ایک امریکی LUCAS ڈرون مار گرایا۔ رائٹرز کے مطابق یہ اطلاع ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایرانی فوج کے حوالے سے دی۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق یا امریکی حکام کا فوری تفصیلی ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے اسے ایرانی فوج کے دعوے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

بندر عباس خلیج کے ساحل پر واقع ایران کا ایک اہم تجارتی اور عسکری مرکز ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی تزویراتی اہمیت بھی نمایاں ہے۔ ایرانی بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کس مشن پر تھا، اسے کس مقام پر نشانہ بنایا گیا یا کارروائی کے دوران کوئی اور نقصان ہوا۔ اسی طرح یہ تفصیل بھی فوری طور پر سامنے نہیں آئی کہ ڈرون کے ملبے یا اس کی شناخت سے متعلق کوئی ثبوت جاری کیا گیا ہے یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی نے خلیج اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں فضائی، بحری اور سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات، ایرانی دفاعی مقامات اور تجارتی جہاز رانی سے متعلق واقعات عالمی توانائی منڈیوں اور سلامتی کے خدشات پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ میں دستیاب معلومات محدود تھیں اور ایرانی فوج کے دعوے کے علاوہ واقعے کی تفصیلی آزاد تصدیق پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے ڈرون کی نوعیت، اس کے آپریٹر، پرواز کے مقصد اور اسے نشانہ بنانے کے حالات سے متعلق مزید معلومات کے لیے امریکی اور ایرانی حکام کے آئندہ بیانات اہم ہوں گے۔ کسی بھی ممکنہ فوجی ردعمل یا کشیدگی میں اضافے کے بارے میں فی الحال قیاس آرائی مناسب نہیں، جبکہ بنیادی تصدیق شدہ نکتہ یہی ہے کہ ایرانی فوج نے بندر عباس کے قریب امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔