ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران کو موجودہ ’نہ جنگ نہ امن‘ کی غیر یقینی کیفیت سے نکلنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کے دوران معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے داخلی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ قابلِ پیش گوئی اسٹریٹجک ماحول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قومی اتحاد اور پالیسی میں واضح سمت اختیار کرنے کی بات کی۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے اسنا کے حوالے سے سامنے آنے والے بیان میں پزشکیان نے کہا کہ ایران معدنی وسائل، جغرافیائی محل وقوع اور انسانی صلاحیت کے اعتبار سے وسیع امکانات رکھتا ہے، لیکن طویل غیر یقینی صورتحال ملکی ترقی اور منصوبہ بندی کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچ اور حکمت عملی کی اصلاح کے ساتھ ملک کو موجودہ تعطل سے باہر نکلنا چاہیے۔

صدر نے معاشی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بہت سے ایرانی شہری روزمرہ اخراجات اور خوراک کے حصول کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ خطے میں جنگ اور پابندیوں سے جڑے حالات نے ایرانی معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا ہے، جس کے باعث سیاسی اور سفارتی تعطل کے معاشی اثرات بھی زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

ایک الگ بیان میں پزشکیان نے امریکا کو ایک عبوری معاہدے کی سابقہ کوشش ناکام ہونے کا ذمہ دار قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ تہران کو دوبارہ معاہدہ طے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت فوجی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے کو مکمل طور پر بند نہیں سمجھتی، اگرچہ کسی نئی بات چیت کے باقاعدہ آغاز یا شرائط کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

اسی پس منظر میں پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں ایک سیمینار کے دوران کہا کہ تہران نے پاکستان کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ اگر واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے تو ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ سفیر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اس دعوے کی امریکی جانب سے اسی رپورٹ میں آزادانہ تصدیق نہیں دی گئی۔

پزشکیان کے بیانات ایسے وقت آئے ہیں جب خطے میں فوجی کشیدگی، توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں سے متعلق خدشات عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ فی الحال کسی نئے معاہدے کی حتمی شکل یا مذاکراتی ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار تہران اور واشنگٹن کے عملی سفارتی اقدامات پر ہوگا۔