پیانگ یانگ/بیجنگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن چین کے سرحدی شہر داندونگ کے ایک روزہ غیر اعلانیہ دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق چینی سرکاری میڈیا نے دورے کی تصدیق کی، تاہم بیجنگ اور پیانگ یانگ نے اس سفر کا پیشگی اعلان نہیں کیا تھا اور اس کے تمام مقاصد یا ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی تفصیل بھی جاری نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کم جونگ اُن کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے نئے یالو ریور برج کے ذریعے چین میں داخلہ کیا۔ یہ پل کئی سال قبل مکمل ہوا تھا مگر شمالی کوریا کی جانب رابطہ سڑکوں اور کسٹمز سہولتوں کی کمی کے باعث طویل عرصے تک باقاعدہ طور پر نہیں کھل سکا تھا۔ گزشتہ ہفتے اس کے باضابطہ افتتاح کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی رابطوں میں اہم پیش رفت سمجھا گیا۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم سفارتی و اقتصادی سہارا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیجنگ کے اعلیٰ سیاسی مشیر وانگ ہوننگ داندونگ میں کم کے ہمراہ رہے اور دورے کے اختتام پر انہیں پل پر رخصت کیا۔ وانگ نے چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ سرکاری بیان میں کم کی شی جن پنگ یا چینی وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ کسی ملاقات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایک جنوبی کوریائی قانون ساز نے کہا کہ ان کے فہم کے مطابق کم کی لی چیانگ سے ملاقات ہوئی، مگر اس دعوے کی چینی سرکاری تفصیل میں تصدیق نہیں ہوئی۔

کم نے دورے کے دوران چینی فوجیوں کی یادگاری تقریب میں شرکت اور ایک آٹوموبائل فیکٹری کا دورہ بھی کیا۔ یہ سفر ایسے وقت ہوا ہے جب چین اور شمالی کوریا اقتصادی رابطے بڑھا رہے ہیں اور خطے میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام، جنوبی کوریا کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ امریکی سفارت کاری پر توجہ برقرار ہے۔ ماہرین نے دورے کے ممکنہ مقاصد پر مختلف اندازے پیش کیے ہیں، لیکن ان تجزیوں کو سرکاری طور پر طے شدہ نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر دورے کی اہمیت دونوں اتحادی ہمسایوں کے سیاسی اعتماد اور سرحدی اقتصادی روابط کے تناظر میں نمایاں ہے۔