دبئی/تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے کی ایک سابقہ کوشش ناکام ہونے کا ذمہ دار واشنگٹن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اس کے باوجود ایک نئی کوشش کرنی چاہیے۔ ہفتہ 24 اکتوبر کو ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیانات میں انہوں نے مذاکرات اور کسی ممکنہ سمجھوتے کی طرف دوبارہ بڑھنے کی حمایت کی۔

رائٹرز کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ دونوں فریق مذاکرات کر رہے تھے مگر ان کے بقول امریکی اقدامات نے اس عمل کو خراب کیا۔ انہوں نے امریکا کے لیے سخت زبان استعمال کی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کی رائے میں دوبارہ جا کر معاہدہ مکمل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں کم از کم صدارتی سطح پر سفارتی راستہ مکمل طور پر بند کرنے کی حمایت نہیں کی جا رہی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان شدید فوجی اور سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ حالیہ تنازع نے توانائی منڈیوں، خلیجی جہاز رانی اور علاقائی سلامتی پر وسیع اثرات ڈالے ہیں، جبکہ کسی نئے فوجی تصادم کے خدشات بھی برقرار ہیں۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کی بحالی سے متعلق ایرانی صدر کا بیان سفارتی امکان کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے، مگر اسے کسی طے شدہ نئے مذاکراتی دور یا حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

پزشکیان کے الزام پر امریکی حکومت کا فوری تفصیلی ردعمل رائٹرز کی مختصر رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ اس لیے عبوری معاہدے کی ناکامی کی ذمہ داری سے متعلق ان کا بیان ایرانی صدر کا مؤقف ہے، کوئی آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ امریکا اور ایران ماضی میں بھی مذاکرات کی ناکامی یا تعطل کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

کسی ممکنہ نئے سمجھوتے کی نوعیت، شرائط اور دائرہ کار بھی ابھی واضح نہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی سکیورٹی اور فوجی کشیدگی سے متعلق مسائل کسی بھی مذاکراتی عمل میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان موضوعات پر فریقین کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں اور عملی پیش رفت کے لیے صرف سیاسی بیانات کے بجائے باقاعدہ سفارتی رابطے اور قابل قبول شرائط درکار ہوں گی۔

ایرانی صدر کا تازہ مؤقف اس لیے اہم ہے کہ یہ جنگی ماحول کے باوجود مذاکرات کی گنجائش باقی رکھنے کی بات کرتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر نہ کسی نئے معاہدے کا اعلان ہوا ہے اور نہ ہی مذاکرات کے مقام، تاریخ یا ایجنڈے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار تہران اور واشنگٹن کے سرکاری رابطوں اور خطے میں فوجی صورتحال پر ہوگا۔