یروشلم/الخلیل: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کے بڑے آپریشن کے دوران تقریباً 1200 فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک فلسطینی عہدیدار نے ہفتہ 24 اکتوبر کو یہ تعداد بتائی، جبکہ آپریشن ایک روز قبل ہونے والے اس حملے کے بعد شروع کیا گیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، عمارتوں کی تلاشی لی اور بعض ڈھانچوں کو منہدم کیا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق کم از کم 70 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاریوں کی یہ تعداد تنظیم کی فراہم کردہ ہے اور ہر فرد کے خلاف الزامات یا قانونی حیثیت کی مکمل تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔
فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی کارروائی کو “اجتماعی سزا” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی تلاش کے نام پر بڑے پیمانے پر رہائشی آبادی کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ آپریشن کا مقصد حملہ آوروں اور ان کے معاونین کی تلاش اور سکیورٹی خطرات کا خاتمہ ہے۔ دونوں فریقوں کے ان دعوؤں کو ان کے متعلقہ سرکاری مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
رائٹرز کے مطابق کارروائی سے ایک روز قبل ہونے والے فلسطینی حملے میں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی قیادت نے سخت ردعمل کا اعلان کیا اور الخلیل کے گرد فوجی دباؤ بڑھا دیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے سخت اقدامات کی بات کی، جبکہ فوج نے علاقے میں وسیع کارروائی شروع کی۔
الخلیل مغربی کنارے کے سب سے حساس شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں فلسطینی آبادی کے ساتھ اسرائیلی آبادکار بھی موجود ہیں اور شہر کے بعض حصوں میں طویل عرصے سے سخت فوجی انتظامات نافذ ہیں۔ ماضی میں بھی حملوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور آبادکاروں سے متعلق تنازعات کے باعث یہاں کشیدگی بار بار بڑھی ہے۔
موجودہ آپریشن کے انسانی اثرات کے بارے میں مختلف اداروں کی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ تقریباً 1200 افراد کے بے گھر ہونے کی تعداد فلسطینی عہدیدار نے بتائی ہے، جبکہ گرفتاریوں کا عدد ایک غیر سرکاری تنظیم سے منسوب ہے۔ آزادانہ تصدیق اور مکمل سرکاری تفصیلات سامنے آنے کے ساتھ یہ اعداد تبدیل ہو سکتے ہیں۔
کارروائی ایسے وقت جاری ہے جب پورے خطے میں پہلے ہی جنگ اور سیاسی کشیدگی موجود ہے۔ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں، آبادکاری، فلسطینی حملوں اور اسرائیلی سکیورٹی اقدامات میں اضافہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ فوری ترجیح متاثرہ شہریوں کی حفاظت، قانونی طریقہ کار کی پابندی اور مزید تشدد سے بچاؤ ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تصویر آئندہ سرکاری اور آزاد رپورٹس سے واضح ہوگی۔
