اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ معاہدے سے متعلق اپنی داخلی توثیقی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں۔ ترجمان کے مطابق معاہدے کا متن 16 دفعات پر مشتمل ہے اور اس میں کسی ایسی خفیہ شق کا وجود نہیں جسے باضابطہ متن سے باہر رکھا گیا ہو۔
دفتر خارجہ نے معاہدے سے متعلق بعض قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسی متن کی توثیق کرتا ہے جو متعلقہ باضابطہ عمل میں پیش کیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے کی تشریح اس کے تحریری متن اور منظور شدہ دفعات کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ غیرمصدقہ دعووں یا سیاسی قیاس آرائیوں پر۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور سکیورٹی تعلقات موجود ہیں۔ کسی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کی توثیق عام طور پر اس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جس میں فریق اپنی داخلی قانونی یا انتظامی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اس کے بعد معاہدے کے نافذ ہونے کا طریقہ اس کی اپنی دفعات اور فریقین کے درمیان طے شدہ عمل پر منحصر ہوتا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں معاہدے کے 16 آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کی منظوری باضابطہ متن تک محدود ہے۔ اس وضاحت کا مقصد ان دعووں کو مسترد کرنا تھا جن میں معاہدے کے دائرہ کار سے متعلق اضافی یا غیرعلانیہ وعدوں کی بات کی گئی تھی۔ ایسی صورت میں کسی بھی اضافی ذمہ داری کا دعویٰ اس وقت تک مصدقہ نہیں سمجھا جاسکتا جب تک متعلقہ حکومتیں اسے سرکاری دستاویز یا اعلان کے ذریعے تسلیم نہ کریں۔
توثیق مکمل ہونے کے باوجود معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار اس کے نفاذ، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ان شعبوں پر ہوگا جن کا متن میں احاطہ کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کی تازہ وضاحت بنیادی طور پر قانونی و سفارتی حیثیت واضح کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستان نے اسی تحریری فریم ورک کی منظوری دی ہے جو سرکاری طور پر فریقین کے سامنے موجود ہے۔
