پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پرامن جوہری ٹیکنالوجی تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو توانائی، صحت، زراعت، پانی اور دیگر پرامن شعبوں میں جوہری سائنس کے فوائد سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے ساتھ ہی جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ سے متعلق اختلافات کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے متعلقہ تکنیکی طریقہ کار اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

ڈان کے مطابق پاکستان کے قونصلر سید عاطف رضا نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے مینڈیٹ اور محفوظ، پائیدار اور پرامن جوہری استعمال کے فروغ میں اس کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کے مینڈیٹ کے مختلف حصوں میں توازن برقرار رہنا چاہیے اور سول نیوکلیئر تعاون پر ایسی رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں جو قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے والے ممالک کی ترقیاتی ضروریات کو متاثر کریں۔

پاکستان 1957 سے آئی اے ای اے کا رکن ہے اور تکنیکی تعاون کے پروگرام کے تحت تربیت، استعداد کار، جوہری تحفظ، صحت، پانی کے انتظام اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں ایجنسی کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ پاکستانی نمائندے کے مطابق ملک میں چھ جوہری بجلی گھر کام کر رہے ہیں اور یہ تمام آئی اے ای اے سیف گارڈز کے تحت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری بجلی پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور کم کاربن بجلی کی پیداوار میں اہم حصہ ڈالتی ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اجلاس میں بتایا کہ دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی طلب، مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور قابلِ اعتماد کم کاربن توانائی کی ضرورت کے باعث 2060 تک عالمی جوہری بجلی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے 30 سے زیادہ ممالک میں 400 سے زیادہ ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور 60 سے زیادہ نئے ری ایکٹر زیر تعمیر ہیں۔

اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام، شمالی کوریا اور یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پلانٹ سے متعلق خدشات بھی زیر بحث آئے۔ گروسی نے ایران کے معاملے میں فریقین کو سفارتی حل کی طرف واپس آنے اور آئی اے ای اے کی تصدیقی ذمہ داریوں کے لیے ضروری رسائی فراہم کرنے پر زور دیا۔ پاکستانی نمائندے نے بھی کہا کہ عدم پھیلاؤ اور سیف گارڈز سے متعلق خدشات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے آئی اے ای اے کے مجاز تکنیکی نظام میں حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کا مؤقف جوہری توانائی کو ترقیاتی ضرورت اور عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں دونوں کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ عملی طور پر سول نیوکلیئر تعاون تک رسائی بین الاقوامی معاہدوں، برآمدی کنٹرول نظام، سیف گارڈز اور دوطرفہ انتظامات سے مشروط رہتی ہے، اس لیے اسلام آباد کے مطالبے کا آئندہ اثر عالمی جوہری تعاون سے متعلق سفارتی اور پالیسی فیصلوں میں دیکھا جائے گا۔