واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پرامن جوہری ٹیکنالوجی تک مساوی اور غیر امتیازی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم پھیلاؤ اور حفاظتی نگرانی سے متعلق اختلافات کو سیاسی بنانے کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے متعلقہ تکنیکی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
آئی اے ای اے کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کی بحث میں پاکستان کے قونصلر سید عاطف رضا نے ایجنسی کے مینڈیٹ اور محفوظ، پائیدار اور پرامن جوہری سائنس کے فروغ میں اس کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی نمائندے کا مؤقف تھا کہ آئی اے ای اے کے مینڈیٹ کے مختلف حصوں میں توازن برقرار رہنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو معاشی و سماجی ترقی کے لیے درکار شہری جوہری تعاون سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
بحث کے دوران آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب، مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور قابل اعتماد کم کاربن توانائی کی ضرورت کے باعث 2060 تک دنیا میں جوہری بجلی کی صلاحیت تین گنا سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق 30 سے زائد ممالک میں 400 سے زیادہ آپریٹنگ ری ایکٹر 2025 میں عالمی بجلی کا تقریباً دس فیصد پیدا کر رہے تھے، جبکہ 60 سے زیادہ نئے ری ایکٹر زیر تعمیر ہیں۔
پاکستانی نمائندے نے بتایا کہ پاکستان آئی اے ای اے کا بانی رکن ہے اور 1957 سے ادارے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے چھ جوہری بجلی گھر آئی اے ای اے کے حفاظتی انتظامات کے تحت کام کرتے ہیں اور تقریباً 20 فیصد ملکی توانائی جبکہ کم کاربن بجلی کا قریب ایک تہائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے صحت، پانی کے انتظام، زراعت، انسانی وسائل اور جوہری تحفظ کے شعبوں میں ایجنسی کے تکنیکی تعاون کا بھی حوالہ دیا۔
اجلاس میں ایران، شمالی کوریا اور یوکرین کے جوہری معاملات بھی زیر بحث آئے۔ گروسی نے ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی حل اور آئی اے ای اے کی تصدیقی نگرانی کی بحالی پر زور دیا، جبکہ شمالی کوریا کے پروگرام اور یوکرین کے زاپوریژیا جوہری بجلی گھر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ پاکستان نے کہا کہ کشیدگی بڑھانے والے بیانات اور اقدامات تنازع کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس لیے زیر التوا معاملات کو فریقین کے حقوق و ذمہ داریوں کے مطابق سفارتی اور تکنیکی ذرائع سے نمٹایا جانا چاہیے۔

