پیرس: عراقی حکومت اور فرانسیسی توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیز نے عراق میں نئے بڑے توانائی منصوبوں کے امکانات پر باضابطہ بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ فرانس اور عراق کی جانب سے پیر 14 ستمبر 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ممکنہ منصوبوں میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے اور ان کا مقصد عراق کی تیل پیداوار بڑھانے کے ساتھ توانائی خودمختاری اور طویل مدتی توانائی منتقلی میں مدد دینا ہوگا۔

موجودہ پیش رفت کسی حتمی سرمایہ کاری معاہدے، مخصوص منصوبے کی منظوری یا تعمیر شروع ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ فریقین نے فی الحال مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس لیے سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، منصوبوں کی تعداد، مقامات، حصص کی ساخت اور تکمیل کی مدت سمیت اہم تجارتی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں۔ مشترکہ بیان میں بھی ان معاملات کی حتمی شرائط ظاہر نہیں کی گئیں۔

عراق دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور حکام ایک طرف خام تیل کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے جبکہ دوسری طرف بجلی، گیس اور دیگر توانائی شعبوں میں درآمدی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹوٹل انرجیز پہلے سے عراق میں سرگرم ہے، اس لیے نئے مذاکرات دونوں فریقوں کے موجودہ توانائی تعلقات کو مزید وسیع کرنے کی سمت میں قدم بن سکتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص پیداوار ہدف یا نئی سرمایہ کاری رقم کا اعلان اس بیان میں نہیں ہوا۔

فرانسیسی اور عراقی بیان میں دفاعی تعاون سے متعلق ایک الگ پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں فرانسیسی کمپنیوں سے عراقی فوج کی ممکنہ خریداریوں کے لیے ایک روڈمیپ پر اتفاق کیا، جبکہ فرانسیسی کمپنی Harmattan AI اور عراقی وزیر دفاع کے درمیان خودکار فضائی دفاعی نظاموں سے متعلق ارادے کے اعلامیے پر دستخط کا خیرمقدم کیا گیا۔ عراقی وزیر اعظم نے دیگر فرانسیسی کمپنیوں اور وزارت دفاع کے درمیان مختلف دفاعی نظاموں پر مذاکرات کی حوصلہ افزائی کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ یہ دفاعی معاملات توانائی منصوبوں سے الگ ہیں اور انہیں مکمل شدہ خریداری معاہدوں کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ٹوٹل انرجیز کے ساتھ ممکنہ منصوبے عراق کے لیے اس وجہ سے اہم ہو سکتے ہیں کہ ملک اپنی تیل برآمدی آمدنی برقرار رکھتے ہوئے داخلی توانائی نظام، بجلی کی دستیابی اور گیس کے بہتر استعمال پر سرمایہ کاری بڑھانا چاہتا ہے۔ بڑے بین الاقوامی توانائی گروپ کے ساتھ نئے منصوبے سرمایہ اور تکنیکی مہارت فراہم کر سکتے ہیں، مگر اس کا انحصار مذاکرات، تجارتی شرائط اور عراقی حکام کی منظوریوں پر ہوگا۔

14 ستمبر کی مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ دونوں فریق مذاکرات شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ کسی منصوبے کے حجم، مالی بندش، پیداوار شروع ہونے یا متوقع منافع سے متعلق نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا جب تک مزید معاہدے اور تفصیلی اعلانات سامنے نہ آئیں۔