نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر کی ترقیاتی ضروریات، معاشی نمو اور سماجی پیش رفت کے موضوعات زیر بحث آئے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ترقیاتی مسائل سے نمٹنے اور عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح اور خوشحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ترقیاتی کوششوں کو مقامی ضروریات اور عوامی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

ملاقات میں کسی نئے ترقیاتی پیکیج، مالی گرانٹ، منصوبے کی لاگت یا نئی اسکیم کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے گفتگو کو پالیسی سطح کے رابطے اور ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مخصوص منصوبے کی حتمی منظوری کے طور پر۔ آئندہ کسی مالی یا انتظامی فیصلے کی تصدیق متعلقہ وفاقی یا آزاد کشمیر حکومت کے الگ سرکاری اعلامیے سے ہوگی۔

آزاد جموں و کشمیر میں وفاقی اور علاقائی حکومتوں کے درمیان ترقیاتی رابطہ بنیادی ڈھانچے، سماجی خدمات، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے منصوبوں کے لیے اہم رہتا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی وفاقی سطح پر آزاد کشمیر کے ترقیاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا تھا، جس میں سڑکوں کی بحالی، سماجی و اقتصادی اقدامات، انتظامی رابطے اور مالی وسائل کے مؤثر استعمال جیسے موضوعات زیر بحث آئے تھے۔ تازہ ملاقات اس جاری رابطے کا سیاسی سطح پر تسلسل ہے۔

اسحاق ڈار اور آزاد کشمیر کی قیادت کی گفتگو میں بنیادی پیغام یہ رہا کہ ترقیاتی اہداف کو مسلسل کوشش، مشترکہ منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ عملی پیش رفت کا انحصار اب ان منصوبوں، بجٹ فیصلوں اور انتظامی اقدامات پر ہوگا جو متعلقہ حکومتیں آنے والے عرصے میں باضابطہ طور پر منظور اور نافذ کرتی ہیں۔