راولپنڈی: لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینے کے طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ امتحانی اداروں کو سوالیہ پرچے امیدواروں کے لیے دستیاب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے ان درخواستوں پر فیصلہ سنایا جن میں رواں سال متعارف کرائی گئی پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار طلبہ ریحان شاہد اور انابیہ طاہر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امتحان مکمل کرنے کے بعد امیدواروں سے سوالیہ پرچے واپس لینا قانونی اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ان کے وکیل بیرسٹر عمران آفریدی نے عدالت میں استدلال کیا کہ تعلیمی امتحانات میں امیدواروں کو سوالیہ پرچے تک رسائی کا حق ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے جوابات، ممکنہ غلطیوں اور امتحانی عمل کا جائزہ لے سکیں۔
عدالت نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ امتحان میں استعمال کے لیے سوالیہ پرچہ دینے کے بعد اسے لازمی طور پر واپس لینے کا طریقہ قانون کے مطابق نہیں۔ فیصلے میں متعلقہ حکام کو سوالیہ پرچے سرکاری آن لائن پلیٹ فارم پر بلا تاخیر دستیاب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بعد میں سامنے آنے والے تحریری حکم کے مطابق پنجاب میں منعقدہ ایم ڈی کیٹ 2026 کے تمام متعلقہ سوالیہ پرچے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ویب سائٹ پر داخلہ عمل مکمل ہونے تک دستیاب رکھنے اور امیدواروں کو اعتراضات اٹھانے کا موقع دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل نے عدالت میں پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے سوالیہ بینک کی رازداری اور امتحانی سکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیا۔ عدالت نے دستیاب دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کے اقدامات قانونی اختیار کے مطابق ہونے چاہییں اور امیدواروں کے ساتھ امتیازی یا غیرقانونی طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلے میں اس بات پر بھی توجہ دی گئی کہ سوالیہ پرچوں کی واپسی سے امتحانی سکیورٹی کو پہنچنے والے مخصوص نقصان کی مناسب وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
یہ حکم ایم ڈی کیٹ کے امتحانی عمل میں شفافیت اور امیدواروں کی بعد از امتحان رسائی سے متعلق اہم عدالتی مداخلت ہے۔ فیصلے کا فوری عملی اثر یہ ہے کہ متعلقہ 2026 کے سوالیہ پرچے امیدواروں کے لیے آن لائن دستیاب کیے جائیں اور انہیں امتحانی مواد کا جائزہ لینے کا موقع ملے۔ یہ فیصلہ کسی امیدوار کے داخلے یا نمبر کے حق میں خودکار تبدیلی نہیں کرتا بلکہ سوالیہ پرچوں کی دستیابی اور پالیسی کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔

