وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف امریکا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو حلیل دمیر سے ملاقات میں پاکستان میں غربت میں کمی، سماجی تحفظ اور کمزور طبقات کی فلاح کے لیے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ میں ہوئی، جس میں پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو نادر گل بریچ اور زکوٰۃ فاؤنڈیشن پاکستان کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے مستحق خاندانوں، بیواؤں، یتیم بچوں، معذور افراد اور دیگر کمزور گروہوں کی معاونت کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات کا جائزہ لیا۔ تعلیم، بنیادی صحت، خواتین کی معاشی خودمختاری، ہنرمندی اور روزگار پیدا کرنے کے شعبے بھی گفتگو میں شامل تھے۔ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کی امداد، بنیادی طبی خدمات تک رسائی اور مستحق خاندانوں کو پائیدار معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانے کے طریقوں پر بھی بات ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غربت میں پائیدار کمی کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں اور مستحق افراد کو تعلیم، مہارت، روزگار اور معاشی مواقع تک رسائی دینا ضروری ہے۔ اجلاس میں پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ اور زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے درمیان ممکنہ تعاون پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر وسائل کے مؤثر استعمال اور فلاحی منصوبوں کے نفاذ کے حوالے سے۔

سرکاری اعلامیے میں کسی مخصوص منصوبے کے بجٹ، مستفید ہونے والے افراد کی تعداد، عمل درآمد کی تاریخ یا باضابطہ معاہدے پر دستخط کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ پیش رفت فی الحال تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی اور رابطہ بڑھانے کے مرحلے میں ہے۔ دونوں جانب سے مستقبل میں مزید تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور رابطہ مضبوط کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام میں سرکاری پروگراموں کے ساتھ غیر سرکاری اور بین الاقوامی فلاحی ادارے بھی مختلف سطحوں پر کام کرتے ہیں۔ اگر زیر بحث شراکت داری عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کی نوعیت، مالی حجم اور ہدفی آبادی کا تعین بعد کے باضابطہ فیصلوں سے ہوگا۔ موجودہ ملاقات کا نمایاں پہلو امداد کے ساتھ ہنرمندی، روزگار اور خود انحصاری کو غربت میں کمی کی طویل مدتی حکمت عملی کے طور پر زیر بحث لانا ہے۔