پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی وزرائے کونسل کے آئندہ اجلاس کے لیے تیاریوں کا عمل تیز کر دیا ہے، جو 15 اور 16 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 اکتوبر کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مجوزہ پروگرام اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے ای سی او کے ساتھ پاکستان کی وابستگی اور تنظیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس کے انعقاد کے لیے تمام ضروری تیاریاں مقررہ وقت میں مکمل کی جائیں اور وزارتوں و اداروں کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جائے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ انتظامات کا مقصد صرف اجلاس کا ہموار انعقاد نہیں بلکہ ایسے ماحول کی فراہمی بھی ہے جس میں رکن ممالک کے درمیان نتیجہ خیز بات چیت اور ٹھوس نتائج کے امکانات بڑھ سکیں۔
اجلاس میں معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار احمد اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ حکام نے مجوزہ پروگرام اور انتظامات پر غور کیا، تاہم 17 اکتوبر کے اعلامیے میں وزرائے کونسل کے تفصیلی ایجنڈے، شریک وفود کی مکمل فہرست یا ممکنہ معاہدوں کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے کسی مخصوص فیصلے یا مشترکہ اعلامیے کے بارے میں پیشگی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔
اقتصادی تعاون تنظیم ایک علاقائی بین الحکومتی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت وسطی اور مغربی ایشیا کے متعدد ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کے پلیٹ فارم پر تجارت، رابطہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی اور علاقائی اقتصادی تعاون جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ اسلام آباد میں وزرائے کونسل کا اجلاس پاکستان کے لیے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں تجارتی راستوں، توانائی کی سلامتی اور سرحد پار رابطہ کاری کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے تازہ جائزہ اجلاس بنیادی طور پر تیاری اور رابطہ کاری سے متعلق ہے۔ وزرائے کونسل کے اجلاس کے حقیقی پالیسی نتائج، مشترکہ فیصلوں یا نئی علاقائی پیش رفت کا تعین نومبر میں ہونے والی باضابطہ کارروائی اور اس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں سے ہوگا۔

